اسلام آباد: یوم دفاع کے موقع پر ممکنہ سائبر حملوں کے خدشے کے پیش نظر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اہم اداروں کو 5 سے 7 ستمبر تک خصوصی سائبر سکیورٹی کنٹرول رومز قائم کرنے کی ہدایت کر دی۔
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے سیکٹورل اور صوبائی سرٹس سمیت اہم انفارمیشن انفراسٹرکچر اداروں کو ممکنہ سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔
نیشنل سکیورٹی آپریشنز سینٹر (این ایس او سی) یوم دفاع کے دوران قومی سائبر رابطہ مرکز کے طور پر کام کرے گا اور 24 گھنٹے سائبر صورتحال کی نگرانی کے ساتھ اہم معلومات کے تبادلے کے لیے فعال رہے گا۔ این ایس او سی قومی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو متاثر کرنے والے اہم سائبر واقعات پر مربوط ردعمل میں معاونت کرے گا۔
نیشنل سرٹ نے اہم نیٹ ورکس، سسٹمز، ویب سائٹس اور ڈیجیٹل سروسز کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے اہم سائبر واقعات، مشتبہ سرگرمیوں اور ممکنہ سکیورٹی خلاف ورزیوں کی فوری رپورٹ کرنے کا کہا ہے۔
اداروں کو سائبر تھریٹ انٹیلی جنس کے تبادلے اور مشترکہ ردعمل کے لیے این ایس او سی سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ 5 سے 7 ستمبر تک سائبر سکیورٹی فوکل پرسنز اور تکنیکی ٹیموں کی دستیابی یقینی بنانے کا بھی کہا گیا ہے۔
تکنیکی ٹیموں کو سائبر واقعے کی صورت میں فوری رابطے، معاملے کو اعلیٰ سطح پر منتقل کرنے اور مؤثر ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکاری اور اہم اداروں کی ویب سائٹس، پورٹلز، اے پی آئیز اور ای میل سروسز کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ اداروں کو ویب ایپلیکیشن فائر وال اور ڈی ڈوز پروٹیکشن فعال رکھنے اور ویب سسٹمز کو اپ ڈیٹ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامی اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن اور مضبوط سکیورٹی کنٹرولز نافذ کرنے، آپریٹنگ سسٹمز اپ ڈیٹ رکھنے اور غیر ضروری سروسز بند رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اہم سرورز پر فائر والز اور سائبر حملوں کی نشاندہی و روک تھام کے نظام فعال رکھنے، اہم ڈیٹا بیسز کو براہ راست پبلک آئی پی پر دستیاب نہ رکھنے اور سکیورٹی لاگز کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیشنل سرٹ نے اہم اداروں کو ڈیزاسٹر ریکوری سائٹس فوری استعمال کے لیے تیار رکھنے، اہم سسٹمز اور کنفیگریشنز کے آف لائن یا ایئر گیپڈ بیک اپ محفوظ رکھنے اور بحالی کے نظام کی جانچ کی بھی ہدایت کی ہے۔
ڈیٹا سینٹرز اور سکیورٹی آپریشنز سینٹرز کے لیے متبادل انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، یو پی ایس اور جنریٹر بیک اپ یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔


