نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان ایران تعلقات اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شریک ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقات کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے طویل عرصے سے جاری تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت پر عمل درآمد جاری رکھنے کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مخلصانہ اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایران کے لیے پاکستان کی اصولی سفارت کاری اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔
ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی وابستگیوں پر استوار ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں کثیرالجہتی تعاون مزید فروغ دینے کے لیے ایران کی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور مستقبل میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطے برقرار رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
’ایرانی صدر نے اسلام آباد معاہدہ آج بھی قابل قبول قرار دیا، وزیراعظم‘
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال اور پاکستان ایران تعلقات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی صدر سے کہا کہ خطے میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ اسلام آباد معاہدہ آج بھی ایران کے لیے قابل قبول ہے اور وہ اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد ہو۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ایرانی صدر نے پاکستان کی خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے اور امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت مل کر امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مکہ معاہدے کے حوالے سے بھی ایران کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاعی تعاون اور امن کے فروغ کے لیے ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif met with the President of Islamic Republic of Iran, H.E. Dr. Masoud Pezeshkian today, on the sidelines of the 81st Session of United Nations General Assembly (UNGA) in New York.
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq… pic.twitter.com/BHkCwC2QNI
— Prime Minister's Office (@PakPMO) September 24, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ورک کے نتیجے میں پاکستان میں معاشی استحکام آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دے رہا ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور موجودہ علاقائی صورتحال میں سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
امریکا ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں
ایرانی صدر سے موجودہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی ’’ گھٹنے نہیں ٹیکے گا‘‘ ۔
دوسری جانب رواں ہفتے کے آغاز میں ایرانی حکام نے کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی جانب واپسی پر آمادگی کا عندیہ دیا تھا، یہ لچک اس وقت سامنے آئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کے دورے کے دوران ایرانی صدر سے ملاقات کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان نئے سفارتی رابطوں کے پس منظر میں قطر اور پاکستان دونوں کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے، جس میں عالمی اور علاقائی صورتحال سمیت پاکستان کے اہم سفارتی مؤقف پر بات متوقع ہے۔
وزیراعظم کی نیویارک میں دیگر اہم ملاقاتیں
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی متعدد عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
وزیراعظم نے شام کے صدر احمد الشرع سے ملاقات میں پاکستان اور شام کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے شام کی خودمختاری، اتحاد، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔ پاکستان نے شام کی تعمیر نو اور معاشی بحالی میں کردار ادا کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا اور مالیاتی نظم و ضبط، ٹیرف اصلاحات، مقامی محصولات میں اضافے اور نجکاری سمیت معاشی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
آئی ایم ایف سربراہ نے پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔ ملاقات میں پاکستان کے آئندہ آئی ایم ایف پروگرام ریویو اور مستقبل میں تعاون پر بھی بات ہوئی۔
وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، تجارتی تعاون اور جی ایس پی پلس سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطحی روابط جاری رکھنے پر زور دیا۔
نیویارک میں وزیراعظم کی سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو امریکا ایران تنازع کے سفارتی حل کے لیے پاکستان کی کوششیں بھی ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔



