دبئی: متحدہ عرب امارات نے ایرانی ایئرلائنز کی ملک سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں غیر معینہ مدت کیلئے معطل کردی ہیں۔
خبررساں ادارے عرب نیوز کے مطابق اماراتی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ پروازوں کی معطلی جمعرات سے نافذ العمل ہوگی اور معمول کی فضائی آمدورفت بحال ہونے تک جاری رہے گی۔
اماراتی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ امریکا کی جانب سے ایرانی ایئرلائنزکو دنیا بھر کے ہوائی اڈوں تک رسائی کے حوالے سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فضائی آمدورفت معمول پر آنے تک صورتحال پر نظر رکھی جائے گی اور اس حوالے سے متعلقہ حکام اور عوام کو پیش رفت سے آگاہ کیا جاتا رہے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایرانی ایئرلائنز کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی ثانوی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی سول ایوی ایشن کے عالمی آپریشنز کو محدود کرنا ہے۔
امریکی اقدامات کے تحت غیر ملکی ہوائی اڈوں اور کمپنیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے ایرانی ایئرلائنز کو مختلف خدمات فراہم کیں تو انہیں سخت مالی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ان خدمات میں طیاروں کو ایندھن کی فراہمی، لینڈنگ میں معاونت اور ٹکٹوں کی فروخت سمیت دیگر سہولیات شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے 8 ستمبر کو ایرانی فضائی شعبے کے خلاف پابندیوں کے ایک وسیع پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس میں ایران کی 27 ایئرلائنز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ امریکی اقدام میں ایرانی ایوی ایشن سیکٹر سے منسلک مجموعی طور پر 36 اداروں اور افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی ایئرلائنز پر امریکی الزامات
امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران کی کمرشل ایئرلائنز کو ہتھیاروں اور اہلکاروں کی منتقلی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے ایران پہلے سے عائد پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کا مقصد ایرانی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور انہیں عالمی ہوابازی کے نظام میں دستیاب سہولیات تک رسائی سے روکنا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی پابندیوں کو مسترد کردیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی وسیع تر امریکی مہم کا حصہ ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی پابندیاں ایران کے خلاف دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا تسلسل ہیں اور ان کا مقصد ایرانی معیشت اور مختلف شعبوں کو متاثر کرنا ہے۔
متعدد ممالک میں پروازیں متاثر
ایرانی ایئرلائنز پر پابندیوں کے اثرات خطے کے دیگر ممالک میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ایران کی بغداد، مسقط اور قطر کیلئے پروازیں روک دی گئی ہیں۔
جارجیا اور آذربائیجان نے بھی ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں معطل کردی ہیں، تاہم چین اور ترکیہ سمیت بعض دیگر مقامات کیلئے ایرانی فضائی کمپنیوں کی کچھ پروازیں بدستور جاری ہیں۔
ایرانی میڈیا نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ ایران سے متحدہ عرب امارات کیلئے ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں بھی نصف شب سے منسوخ کردی گئی تھیں۔ منسوخ ہونے والی پروازوں میں تہران سے دبئی جانے والی ایران ایئر ٹور کی پرواز بھی شامل ہے۔
متحدہ عرب امارات کے تازہ فیصلے کے بعد ایرانی مسافروں اور ایئرلائنز کیلئے خطے میں فضائی سفر کے حوالے سے مزید مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے، تاہم اماراتی حکام نے پروازوں کی بحالی کیلئے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی۔
تہران کی جوابی کارروائی کی دھمکی
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات ایران کو امریکی دباؤ کے سامنے مزید مزاحمت کیلئے مضبوط کریں گے۔
تہران نے پڑوسی ممالک کو بھی امریکی پابندیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اگر پڑوسی ممالک امریکی پابندیوں کی تعمیل کرتے ہیں تو ایران کی جانب سے جوابی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
اماراتی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معمول کی فضائی آمدورفت کی بحالی تک صورتحال کی نگرانی جاری رکھے گی اور کسی بھی نئی پیش رفت سے متعلقہ حکام اور عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
یوں ایرانی ایئرلائنز کے خلاف امریکی پابندیوں کے بعد متحدہ عرب امارات کی جانب سے تمام پروازیں غیر معینہ مدت کیلئے معطل کرنے کا فیصلہ خطے میں ایران کی بین الاقوامی فضائی آمدورفت پر پڑنے والے نمایاں اثرات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔



