اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے تحت اوگرا نے 25 ستمبر 2026 سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا۔
اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 84 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 389.28 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے، اس سے قبل پٹرول 390.12 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 63 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 412.12 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اس سے قبل ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 414.75 روپے فی لیٹر تھی۔
اوگرا کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی عالمی سطح پر پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر متعلقہ عوامل میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث کی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکا ایران سفارتی رابطوں میں پیش رفت کے امکانات کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 2 فیصد بڑھ کر 105.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ 93.64 ڈالر فی بیرل پر رہا۔ دن کے دوران برینٹ 106.50 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی سپلائی کے خدشات اور امریکا ایران مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس سے قبل ایران کی جانب سے سفارت کاری کے لیے آمادگی کے اشاروں پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد کمی بھی دیکھی گئی تھی۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے متبادل راستوں سے تیل کی ترسیل بڑھانے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی میں ممکنہ بہتری کی اطلاعات نے قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد دی، تاہم خطے میں جاری تنازع اور سپلائی روٹس سے متعلق غیر یقینی صورتحال عالمی تیل مارکیٹ کے لیے اب بھی اہم خطرہ ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے رجحان کے ساتھ ساتھ ڈالر کی شرح، درآمدی لاگت، پریمیم اور دیگر متعلقہ عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔



