اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا افغان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری اور سرپرستی کر رہی ہے۔ جبکہ افغانستان میں دہشتگردوں کے جو ٹھکانے پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتے ہیں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے افغان سرزمین سے آنے والے ڈرونز سے متعلق کہا کہ افغان رجیم نے پاکستان کی طرف ڈرون بھیجے جنہیں تباہ کردیا گیا، جبکہ جہاں سے ڈرون فائر کیے گئے ان ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ افغانستان میں دہشتگردوں کا اسٹرکچر تباہ کیا جائے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ڈرون بنانے والی سائٹ کی ویڈیوز شیئر کردی گئی ہیں، اور ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کا تحفظ کرتا رہے گا۔
خیبر پختونخوا حکومت کی امن و امان پر کوئی توجہ نہیں، عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وہ 2 روز سے خیبرپختونخوا کے دورے پر تھے، صوبے میں انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کوئی کام نہیں ہو رہا جبکہ صوبائی حکومت کی امن و امان پر بھی کوئی توجہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لوگ دہشتگردوں کے خلاف بیان تک دینا پسند نہیں کرتے، اور دہشتگرد حملے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا صرف 20 منٹ کے لیے کوہاٹ گئے۔ خیبرپختونخوا میں اس وقت حالات خراب ہیں۔
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں ساڑھے 13 سال سے حکومت ہے، لیکن وہ اسلام آباد پر چڑھائی کی باتیں کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کا ہر احتجاج پرتشدد رہا ہے، اور آج بھی غلیلوں سے بھرا ٹرک برآمد ہوا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے گزشتہ احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ ایک دن کے احتجاج سے ملک کو 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے وقت میں دھرنے دے کر پی ٹی آئی کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟۔
انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج ریکارڈ کرانا مقصد ہے تو پشاور میں کرلیں، اسلام آباد میں توڑ پھوڑ کرنے کا کیا مقصد ہے؟ اسلام آباد میں پوری دنیا کے سفارتکار اور سرکاری دفاتر موجود ہیں۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی، جبکہ ہر دوسرے دن احتجاج کی کال دینے کا کوئی جواز نہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو 6 مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی، جبکہ اسپیکر 24 مرتبہ مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، لیکن بات چیت سے راہ فرار تحریک انصاف نے اختیار کی۔ اور تحریک انصاف بتائے کہ ان کی پارٹی میں بات چیت کا اختیار کس کے پاس ہے۔
عطا تارڑ نے واضح کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے سے متعلق کوئی تجویز زیر غور نہیں، اور کوشش ہے کہ حکومتی رٹ قائم رکھی جائے۔ تحریک انصاف کے کچھ دوستوں سے بیک ڈور رابطے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس کو بہت بہتر کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ صوبائی پولیس کو سیاسی فورس بنایا جا رہا ہے۔ تاہم حکومت تحریک انصاف کے احتجاج کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔



