چمن سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 3.8، گہرائی 12کلو میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ مرکز چمن کے قریب واقع پہاڑی سلسلے میں تھا۔
زلزلے کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے، تاہم زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
گزشتہ روز بھی اسلام آباد اور پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلہ شام 4 بج کر 30 منٹ پر آیا، جس کی شدت 4.9 ریکارڈ کی گئی۔
اس سے قبل چترال، سوات، ملاکنڈ اور ضلع مہمند سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.9 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی گہرائی 196 کلومیٹر تھی، جبکہ مرکز کوہِ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔
زلزلے آنے کی وجوہات کیا ہیں؟
زلزلہ بنیادی طور پر زمین کی اندرونی چٹانی تہوں میں اچانک حرکت اور ٹکراؤ کی وجہ سے آتا ہے، زمین کی بیرونی تہہ کئی بڑی بڑی پلیٹوں پر مشتمل ہے جو مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں۔ جب یہ پلیٹس ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں یا آپس میں رگڑ کھاتی ہیں تو ان کے درمیان شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ زمین کے اندر لاوے اور میگما کی حرارت یا آتش فشاں پھٹنے سے بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔


