کوئٹہ: کسان اتحاد نے کل 25 ستمبر سے کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔
کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے اپنے ویڈیو بیان میں اعلان کیا ہے کہ کل (جمعہ) کی شام 3 بجے کوئٹہ پریس کلب سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھرپور طاقت سے ہزاروں لوگ صرف بلوچستان سے نکلیں گے جبکہ منزل پر پہنچنے کے بعد لاکھوں افراد احتجاج میں شامل ہوں گے۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ ہمارے مطالبات جائز ہیں۔ ہم اپنے حقوق مانگ رہے ہیں اور ملک کی سلامتی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دنیا میں جو جنگ چل رہی ہے اس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات سمیت مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے۔ جبکہ ساڑھے سات لاکھ میٹرک ٹن گندم بھی باہر سے منگوائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ٹرانسفارمرز ہم نے اتار دیئے ہیں اس کے بھی بل ہم ادا کر رہے ہیں۔ جس کے لیے ہم نے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔
کسانوں کا کل شام 3 بجے سے کوئٹہ سے ہزاروں افراد کے ساتھ اسلام آباد لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان۔ pic.twitter.com/peT5Mc7jbR
— Atta ur Rehman Kohistani (@atta__kohistani) September 24, 2026
واضح رہے کہ کسان اتحاد کی جانب سے بھی اپنے مطالبات کے حق میں 25 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کے مطابق وہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کریں گے۔
بلوچستان کے وکلا کا کسان اتحاد کے لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان
گزشتہ روز کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے وکلا تنظیموں سے ملاقاتیں کیں اور بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ بار اور دیگر وکلا تنظیوں نے کسان اتحاد کے لانگ مارچ کی حمایت کی ہے۔
بار ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ کسانوں کے مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے ان کی حمایت کی جائے گی۔
وکلا سے خطاب کرتے ہوئے خالد حسین باٹھ کا کہنا تھا کہ حکومت سے بار بار اپنے مطالبات کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکا۔ پیاز اور ٹماٹر کی فصل تیار ہے لیکن وہ افغانستان سے اسمگل ہو کر آ رہی ہے جس کی وجہ سے ملک کے کسان متاثر ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے تین سال قبل کسانوں سے گندم خریدنے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے کسانوں کو تقریبا 4 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ پیرافورس کی جانب سے کسانوں سے زبردستی گندم اس قیمت پر چھینی گئی جس پر کسانوں کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا تھا۔
چیئرمین کسان اتحاد کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو زراعت کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے کسانوں کو بجلی سمیت ہر چیز سستی ملتی ہے جس کی وجہ سے ہم زراعت میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔



