بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بیرونی مداخلت مسترد کرنی چاہیے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشرق وسطیٰ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں نئے سکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل کی حمایت کرتا ہے۔ اور مشرق وسطیٰ کے عوام کو اپنے معاملات کا خود مالک ہونا چاہیے جبکہ خطے کے ممالک کو بیرونی مداخلت مسترد کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے بنیادی مسائل میں شامل ہے اور اسے نظرانداز یا پس پشت نہیں ڈالا جانا چاہیئے۔
سمندری راستوں کے حوالے سے چینی صدر نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر عالمی بحری راستوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔ بیرونی طاقتوں کو دوہرا معیار ترک کر کے اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی حمایت کرنی چاہیے۔
ملاقات میں چین اور مصر نے مشترکہ سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے یکم ستمبر کو ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کا تازہ مرحلہ مکمل کر لیا۔
سینٹ کام کے مطابق حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی مراکز، ریڈار نظام، بحری تنصیبات اور اثاثوں، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور امریکی فوجیوں کے خلاف پاسداران انقلاب کی حالیہ مبینہ کارروائیوں کے بعد کی گئی ہیں۔


