لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے طلبہ کے لیے سی ایم الیکٹرک بائیک اسکیم میں ڈاؤن پیمنٹ وصول نہ کرنے کی ہدایت کر دی، جبکہ ماہانہ قسط کے علاوہ دیگر واجبات عائد کرنے کی سفارشات بھی مسترد کر دیں۔
حکومت پنجاب طلبہ کو فراہم کی جانے والی ای بائیکس پر انٹرسٹ اور انشورنس کی رقم خود ادا کرے گی، طلبہ کے لیے ماہانہ تقریباً 3 ہزار روپے قسط مقرر کرنے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے رواں ہفتے ای بائیک پورٹل کھولنے کی ہدایت کرتے ہوئے اہل طلبہ کو چھ ہفتوں کے اندر بائیکس فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سی ایم الیکٹرک بائیک اسکیم کے تحت ای بائیک کے ساتھ ہیلمٹ اور سیفٹی راڈ بھی مفت فراہم کیا جائے گا، اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی بائیکس میں لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹری نصب ہو گی۔
حکام کے مطابق خواہش مند طلبہ کو ای بائیک چلانے کے لیے دو روزہ ڈرائیونگ ٹریننگ بھی مفت فراہم کی جائے گی، اسکیم کے تحت پنجاب بھر کے طلبہ کو سوا لاکھ سے زائد ای بائیکس فراہم کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے طلبہ کو سفری سہولت فراہم کرنے اور ان کے تعلیمی سفر کے اخراجات کم کرنے کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز کی سربراہی میں 2024 میں بائیک اسکیم کا آغاز کیا۔
ابتدائی مرحلے میں 20 ہزار بائیکس جن میں 19 ہزار پیٹرول اور ایک ہزار الیکٹرک بائیکس شامل تھیں طلبہ کو آسان ماہانہ اقساط پر دینے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ ان اقساط پر سود حکومت پنجاب نے برداشت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بعد ازاں حکومت نے ای بائیکس کا دائرہ بڑھانے کا اعلان کیا، دسمبر 2024 میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کے طلبہ کے لیے ایک لاکھ ای بائیکس فراہم کرنے کا اعلان کیا جبکہ حکومت کے مطابق اسکیم کا مقصد بالخصوص ایسے طلبہ کی سفری مشکلات کم کرنا ہے جن کے پاس اپنی سواری موجود نہیں۔
حکومت نے ای بائیکس کو ماحول دوست سفری ذریعہ قرار دیتے ہوئے بیٹری انشورنس، وارنٹی، ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی سہولیات بھی اسکیم کا حصہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
موجودہ مرحلے میں پنجاب حکومت ای بائیک پروگرام کو مزید وسعت دے کر صوبے بھر کے طلبہ تک پہنچانے اور انہیں آسان شرائط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔



