امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے یکم ستمبر کو ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کا تازہ مرحلہ مکمل کرلیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی مراکز، ریڈار نظام، بحری تنصیبات اور اثاثوں، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور امریکی فوجیوں کے خلاف پاسداران انقلاب کی حالیہ مبینہ کارروائیوں کے بعد کی گئی ہیں۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) September 1, 2026
سینٹ کام نے کہا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو چوکس ہیں اور امریکی کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر مزید کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
اس اعلان سے ایک روز قبل خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر شدید جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جبکہ واشنگٹن نے مزید تباہ کن حملوں کی دھمکی دی تھی۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 سالہ بچہ بھی شامل ہے، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایک صوبائی عہدیدار کے حوالے سے زخمیوں کی تعداد 68 بتائی ہے۔
دوسری جانب ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقے میں ایک شادی کی تقریب پر حملہ کیا جس میں ایک بچے سمیت 5 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوئے۔ حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران نے ان ‘وحشیانہ جرائم’ کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
اولین تصاویر از جنایت آمریکا در سیریک
امدادگران هلال احمر درحال امدادرسانی هستند pic.twitter.com/gAf4EHktgU
— جمعیت هلالاحمر ایران (@Iranian_RCS) September 1, 2026
ایرانی میڈیا کے مطابق یک ستمبر کو ملک بھر میں متعدد مقامات پر حملے کیے گئے، جن میں زیادہ تر آبنائے ہرمز کے قریب واقع علاقے شامل تھے۔ ایران اس اہم بحری گزرگاہ سے اجازت کے بغیر گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو دھمکیاں دیتا رہا ہے۔
ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن اور عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بحرین میں بھی حملے کیے گئے۔ پاسداران انقلاب نے اردن میں بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اردن کی مسلح افواج کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 بیلسٹک میزائلوں میں سے 10 کو مار گرایا، جبکہ 3 دور دراز علاقوں میں گرے۔ بحرین نے بھی ایرانی ڈرونز کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
The United States’ catalogue of atrocities against the nation of Iran is now complete: a residential home in Kuhestak, #Sirik, was brutally attacked tonight while families were celebrating a wedding. More than 50 innocent men, women and children were martyred or wounded.
This…
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) September 1, 2026
پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ اس کی زمینی افواج نے شمالی عراق کے شہر اربیل میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں متعدد امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔ تاہم عراق اور امریکا نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
فائرنگ کا یہ تبادلہ جولائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی بڑی فوجی کارروائی ہے۔ اس سے قبل ایک وقفے کے دوران دونوں جانب سے حملے روک دیے گئے تھے، تاہم مذاکرات کی بحالی کے بھی کوئی نمایاں آثار نظر نہیں آئے۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو اب آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل ہے اور ایران کی معیشت تیزی سے تباہ ہورہی ہے۔ ’’وہ صرف ناگزیر انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی عوام کب اٹھیں گے اور لڑیں گے؟‘‘
ایران کی مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی کارروائیوں کا جواب مزید شدید اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا۔
کمانڈ نے بیان میں کہا کہ جو بھی ملک امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرے گا، اسے اس کے خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔
