پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے لندن کے لیے فضائی آپریشن میں توسیع کا فیصلہ کر لیا۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق 27 اکتوبر سے لندن کیلئے روزانہ 7 پروازیں چلائی جائیں گی، 5 پروازیں اسلام آباد اور 2 لاہور سے آپریٹ ہوں گی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت پی آئی اے لندن کیلئے 4 ہفتہ وار پروازیں آپریٹ کر رہی ہے، پروازوں کی تعداد میں اضافہ مسافروں کے اعتماد اور بڑھتی ہوئی مانگ کا مظہر ہے۔
اس فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دیگر مسافروں کو سفری سہولیات اور مزید اختیارات میسر آئیں گے۔
خیال رہے پاکستانی پروازوں پر جون 2020 میں یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا کے لیے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ یہ پابندی کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کے حادثے میں تقریباً 100 افراد کی ہلاکت کے بعد لگائی گئی تھی۔
یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر یورپی یونین کے ممالک میں پی آئی اے کے آپریشنز پر پابندی لگائی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت کے وفاقی وزیرِ ہوا بازی غلام سرور خان کے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے بعد کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے پائلٹس کے لائسنسز پر سوال اٹھایا تھا۔
یورپی ایجنسی نے چار سال سے زائد عرصے بعد 28 نومبر 2024 کو پی آئی اے پر عائد پابندی ختم کی تھی ، بعد ازاں جولائی 2025 میں برطانیہ نے بھی پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی لسٹ سے خارج کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستانی ایئرلائنز برطانیہ کے لیے پروازیں چلانے کی درخواست دینے کی اہل ہو گئیں۔
ستمبر 2025 میں پی آئی اے کو تقریباً پانچ سال کے عرصے کے بعد برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کرنے کی منظوری مل گئی۔ مارچ میں پی آئی اے نے لندن کے لیے دوبارہ براہِ راست پروازیں شروع کر دی تھیں۔



