واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران سے دور رہیں اور ایرانی حکومت کی حمایت سے گریز کریں۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ایران کی حمایت کرنے والے ممالک اور افراد سے تفصیلی بات چیت جاری ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے عناصر کے خلاف مزید کارروائی پر غور کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے، جس میں ایئر لائنز، بحری شعبہ اور ڈیجیٹل اثاثوں سمیت اہم اقتصادی شعبے شامل ہو سکتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بیسنٹ نے یکم ستمبر کو کہا کہ امریکا ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی مہم جاری رکھے گا اور ایرانی بینکوں کے خلاف نئی پابندیاں اسی ہفتے عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ امریکی حکام مستقبل میں ہفتہ وار بنیادوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں، جن کا ابتدائی ہدف مالیاتی ادارے ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق واشنگٹن ان اداروں کو بھی نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے جو ایران یا پاسداران انقلاب سے کاروباری روابط رکھتے ہیں جبکہ ائیر لائن لیزنگ کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف اقدامات بھی زیر غور ہیں، بیسنٹ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کے عالمی مالیاتی اثاثوں اور مالی روابط پر شدید دباؤ ڈالنا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے 24 اگست کو ایران کے خلاف پابندیوں کی مہم میں ایوی ایشن، ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، شپنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو بھی ہدف بنانے کا اعلان کیا تھا، محکمہ خزانہ کے مطابق ان شعبوں کو ایران اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
پس منظر
امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی اپنی پالیسی کے تحت حالیہ دنوں میں پابندیوں کا دائرہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تیسرے ممالک اور اداروں تک پھیلانے کی دھمکی دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق واشنگٹن ایران کے مالیاتی روابط کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے تیل، شپنگ اور دیگر عالمی تجارتی نیٹ ورکس کو بھی دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے اور یکم ستمبر کو دونوں جانب سے فوجی کارروائیاں بھی ہوئی ہیں۔



