واشنگٹن: امریکا نے ایران کے پاسداران انقلاب کے اہداف پر نئے حملے شروع کردیئے۔ امریکی صدر نے کہا کہ حملے بڑے پیمانے پر اور انتہائی طاقتور ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کے اہداف پر آج کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازرانی کو درپیش خطرات کا جواب دینا ہے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی اہلکاروں پر حملوں کی کوشش کی تھی، جس کے بعد امریکی افواج نے پاسداران انقلاب کے اہداف کو نشانہ بنایا۔
Today at 12 p.m. ET, U.S. forces began striking Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) targets in Iran. The strikes follow recent attempted attacks by the IRGC against commercial shipping in the Strait of Hormuz and against American service members deployed to the region.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) September 1, 2026
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازرانی کا تحفظ کارروائی کی اہم وجہ ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، جس کے باعث خطے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ حملے بڑے پیمانے پر اور انتہائی طاقتور ہیں۔ جو اردن میں ہمارے فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملوں کا جواب ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے 8 میزائلوں کو کامیابی سے مار گرایا گیا۔ جبکہ ایرانیوں کی جانب سے بچھائی گئی باردوی سرنگیں اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود نہیں ہیں۔ بارودی سرنگوں کو مکمل طور پر ہٹا دیا گیا یا دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے جوابی حملے کیے تو اس سے کہیں زیادہ سخت جواب دیا جائے گا اور جب وہ حملہ ختم ہو گا تو ایران کا بہت کم حصہ باقی بچے گا۔


