وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی۔
علی پرویز ملک کے مطابق خطے کی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین بحال رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے۔ حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام تک منتقل ہونے سے روکنے کے لیے مالی وسائل استعمال کیے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ملک میں کھاد کی فیکٹریاں بھرپور پیداوار دے رہی ہیں، جبکہ وزارت توانائی اور پیٹرولیم ڈویژن نے توانائی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے۔
حکومت نے حالیہ عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نظام بھی تبدیل کیا ہے اور عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو مرحلہ وار منتقل کرنے کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام نافذ کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں رواں سال عالمی توانائی بحران اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، فروری کے آخر میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے اثرات پاکستان کی درآمدی ضروریات اور مقامی ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق بحران کے عروج پر 3 اپریل 2026 کو پیٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 184.49 روپے فی لیٹر کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا تھا، اس اضافے کے بعد پیٹرول 458.41 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔ حکومت نے اس دوران عالمی قیمتوں کے اثرات کا ایک بڑا حصہ خود برداشت کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔
Federal Ministers Ali Pervaiz Malik and Sardar Awais Ahmad Khan Leghari are talking to media in Islamabad https://t.co/xNERLplnId
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 31, 2026
بعد ازاں عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آنے پر پاکستان میں بھی قیمتیں بتدریج نیچے آئیں۔ مثال کے طور پر 8 اگست کو پیٹرول 327.62 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 380.86 روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا۔
روزانہ قیمت مقرر کرنے کا نیا نظام
حکومت نے جولائی 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا۔ اب اوگرا عالمی مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق روزانہ بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نظام سے عالمی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں زیادہ شفاف انداز میں مقامی مارکیٹ تک منتقل ہوں گی۔
18 جولائی کو نئے نظام کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 5.44 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 31.05 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول 316.15 اور ڈیزل 354.35 روپے فی لیٹر ہوگیا تھا۔
130 ارب روپے کی سبسڈی کا معاملہ
علی پرویز ملک کا 130 ارب روپے کی سبسڈی کا بیان اسی پس منظر میں اہم ہے۔ حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں کے شدید اضافے کے دوران صارفین پر پورا بوجھ منتقل کرنے کے بجائے قیمتوں کے ایک حصے کو خود برداشت کیا۔ اس سے قبل حکومت نے عالمی تیل کی قیمتوں کے اثرات سے تقریباً 129 ارب روپے کا بوجھ بھی برداشت کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان پر عالمی قیمتوں کا اثر کیوں زیادہ ہوتا ہے؟
پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملکی درآمدی بل پر اثر ڈالتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روپے کی قدر، زرمبادلہ اور مہنگائی پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عام طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھاتا ہے، جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور صنعتی سرگرمیوں کی لاگت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔


