چھوٹی عمر میں شادی ہوئی، چمڑے کے بیلٹ سے مارا جاتا تھا، تشدد کے باعث جڑواں بچوں کا حمل ضائع ہوا، پیٹھ پر ٹھڈے مارے جاتے تھے جس سے گردوں میں درد رہتا تھا اور بعد میں سرجری کرانا پڑی۔
یہ وہ الزامات ہیں جو مشہور اداکارہ فریال گوہر نے اپنے سابق شوہر اور معروف اداکار اور سابق نگران وفاقی وزیر جمال شاہ پر اے آر وائے ٹی وی کے مارننگ شو کے دوران عائد کیے۔
ندا یاسر کی میزبانی میں نشر ہونے والے اس شو میں فریال کے ساتھ اداکارہ سویرا ندیم بھی بطور مہمان شریک تھی جہاں شوبز کی ان دونوں شخصیات کی زندگیوں، مشکلات اور جد و جہد پر بات چیت ہو رہی تھی۔
گفتگو کے دوران ندا یاسر کے سوال کیے جانے پر فریال گوہر نے کہا کہ “اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد گھرانوں میں عورتوں کیساتھ تشدد ہوتا ہے، اور میں ان میں سے ایک عورت تھی۔”
View this post on Instagram
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بچپن میں بہت تشدد برداشت کیا، جس کی تفصیل میں وہ نہیں جانا چاہتیں، مگر بڑے ہو کر شادی کے دوران 9 سال تک جس تشدد کا سامنا کرنا پڑا، “وہ پتا نہیں کیسے برداشت کیا، اور کیوں برداشت کیا۔”
گھریلو تشدد برداشت کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فریال گوہر نے کہا ہر خاندان میں کہیں نہ کہیں تعصب اور روایتی سوچ پروان چڑھ ہی جاتی جس کے زیر اثر کہا جاتا ہے کہ ہر حال میں “گھر بسائے رکھنا ہے، اولاد پیدا کر لو تو معاملہ ٹھیک ہو جائیگا، لیکن اولاد کیسے پیدا کریں جب آپ کو چمڑے کے بیلٹ سے مارا جاتا ہے اور جس کی وجہ سے آپکی ہونے والی اولاد ضائع ہو جاتی ہے۔”
اداکارہ کے بیانات کی ویڈیو کلپس دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں جس پر صارفین کی جانب سے ملے جلے تاثرات کیساتھ جمال شاہ سے وضاحت دینے کے مطالبے بھی سامنے آئے۔
صارفین کے سوالوں کے جواب میں اداکار نے فریال گوہر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے متعلقہ چینل کو ان کے خلاف مہم چلا کر ریٹنگ لینے کا الزام لگایا۔
شادی کی مدت کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ فریال اور ان کی شادی 9 کے بجائے 5 سال قائم رہی۔
“فریال سے میری شادی پانچ سال تک رہی جس کا مُجھے نہ کوئی پچھتاوا ہے اور نہ تلخی ۔ ہم بڑے مہذب طریقے سے علیحدہ ہوئے اور کافی عرصے طلاق کا میڈیا پر ذکر ہی نہیں کیا۔۔۔ میری دُعائیں اب بھی اُنکے ساتھ ہیں، خُدا اُن کو اپنی گیملی [فیملی] کے ساتھ خوش رکھے۔”
View this post on Instagram
ایکس پر صارفوں کے سوالوں کے جواب میں اپنا دفاع کرتے ہوئے جمال شاہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی شادی 1984 میں ہوئی، 1985 میں “صرف ایک حمل” اس طرح ضائع ہوا کہ “لاہور میں مُنیزہ ہاشمی کے گھر اُنکے کے کُتے نے فریال کو کاٹا اور حمل ضائع ہوگیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ 1989 میں ان کی طلاق ہو گئی تھی جس کا فیصلہ بھی ان کا تھا۔
یاد رہے کہ فریال گوہر نے شو میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کا جو “آخری مس کیرج تھا، وہ ٹونز تھے” جس پر ان کے بقول ان کے فیملی ڈاکٹر نے انہیں کہا کہ “میں دیکھ سکتا ہوں کہ آپ کے جسم پر جو نشان ہیں، جو نیل پڑے ہیں، جہاں آپ کو کاٹا گیا ہے، وہ آپ کیوں برداشت کر رہی ہیں۔”
اداکارہ کے مطابق ان کے ڈاکٹر نے انہیں مزید بچے پیدا کرنے کا سوچنے کے بجائے اپنی شادی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کو کہا۔
گھریلو تشدد کے تدارک کے لیے فریال گوہر کا کہنا تھا کہ “جن عورتوں کیساتھ ایسا ہو رہا ہے، جو بہت سی ہیں، لاکھوں میں ہیں، انہیں ہمت ملنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اکثر وہ لوگ تشدد کرتے ہیں جو اپنے آپ سے ناخوش ہیں۔ اس روش کو روکنے کے لیے فریال گوہر نے کہا کہ مردوں کی تربیت کی جانی چاہیے، بچپن میں ہی سکھایا جائے تاکہ جس کو وہ “اپنے سے کمزور سجمھے” اس پر تشدد نہ کرے۔
یاد رہے کہ 6 ماہ قبل رمضان کے دنوں میں فریال گوہر اور جمال شاہ ایک ساتھ ندا یاسر کے شو کے مہمان بنے تھے جہاں ان سے سوال کیا گیا کہ “پرانے لوگوں میں ایسی کیا خاصیت ہے کہ وہ رشتہ ختم ہونے کے بعد بھی آپس میں اچھے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے پر کیچڑ نہیں اچھالتے۔”
اس پر جمال شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ “ہم پرانے کہاں ہیں جی” جبکہ فریال گوہر کا جواب تھا کہ “ان کے پاس کیچڑ ہوتا نہیں ہے اصل میں”۔



