استنبول: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد ہوا، جس کے بعد پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا۔
اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ کشیدگی میں کمی اور بحرانوں کے پرامن حل کے لیے سفارتی و دیگر کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
تینوں ممالک نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے اور اجتماعی دفاع و مشترکہ بازداریت کی ساکھ اور مؤثریت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق سعودی عرب میں سیکریٹری جنرل کی سربراہی میں مستقل سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کی ابتدائی سربراہی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکرٹری جنرل کریں گے۔ پاکستانی سیکرٹری جنرل تین سال کی مدت کے لیے سیکرٹریٹ کی سربراہی کریں گے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور فوجی ربط و تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ تینوں ممالک دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری اور مشترکہ پیداوار کے امکانات کو بھی فروغ دیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر مؤثر اور عملی عملدرآمد کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا جائے گا۔
🔈 PR No. 2️⃣3️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
STRATEGIC POLITICAL AND DEFENCE COMMITTEE OF THE MAKKAH AGREEMENT FOR JOINT DEFENCE – JOINT STATEMENT
🔗⬇️ pic.twitter.com/WAJfYdYCoL
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 31, 2026
تینوں ممالک نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مشترکہ دفاعی تعاون کا مقصد خطے میں سلامتی کو مضبوط بنانا، ممکنہ خطرات کے مقابلے میں اجتماعی استعداد بڑھانا اور بحرانوں کے پرامن حل کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد رکن ممالک کی سلامتی کا تحفظ ہے، یہ معاہدہ جنگ میں اضافے یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ محاذ آرائی کے لیے نہیں ہے۔
ترکیہ میں مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ تینوں ممالک خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد ایک دوسرے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اس میں کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ کو ہوا دینے کا کوئی مقصد شامل نہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔
حاقان فیدان نے اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدے کا نام “مکہ پیکٹ” رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
دیگر ممالک کی شمولیت
مصر کی ممکنہ شمولیت سے متعلق رائٹرز کے سوال پر ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اتحاد میں شامل ہونے کے خواہشمند کسی بھی ملک کو معاہدے کی تمام شرائط اور ضوابط پورے کرنا ہوں گے۔
حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس لیے دیگر ممالک کی شمولیت کا عمل وقت لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی ممالک کو اپنے خطے سے متعلق مسائل کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے اور مضبوط علاقائی تعاون سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مؤثر علاقائی اتحادوں کی عدم موجودگی میں سکیورٹی مسائل پیدا ہونے پر ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں، اس لیے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
سرحدی سیکیورٹی
حاقان فیدان نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب سمیت ان کے پڑوسی ممالک کی سرحدیں واضح طور پر متعین ہیں، تاہم خلیج فارس اور خلیجی خطے میں بعض غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس کے باعث علاقائی سطح پر مزید رابطے اور تعاون ضروری ہوگئے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری پالیسیوں سے متعلق سوال پر حاقان فیدان نے اسرائیل پر سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ اس کی پالیسیاں نسل کشی کے مترادف ہیں۔
انہوں نے مسئلے کو عالمی تشویش قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف، ان کے بقول، ’’سنگین جرائم‘‘ پر مؤثر ردعمل دے۔
امریکا، ایران جنگ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ پر ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ تنازع عالمی امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ انہوں نے دونوں فریقوں سے مزید کشیدگی سے گریز کرنے اور جنگ کو وسیع ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
حاقان فیدان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کو باہمی سلامتی اور علاقائی استحکام کے مشترکہ فریم ورک میں اکٹھا کرتا ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور رکن ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
واضح رہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں ہوا۔ پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے نمائندگی کی جبکہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے سعودی وفد کی قیادت کی۔
اجلاس میں ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان، وزیر قومی دفاع یاشار گیولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوق بائراکتار اولو بھی شریک ہوئے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 attended the inaugural meeting of the Strategic Political and Defence Committee, established under the Makkah Joint Defence Agreement, alongside Defence Minister Khawaja Muhammad Asif @KhawajaMAsif and… pic.twitter.com/kxsrmbLykk
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 31, 2026
اجلاس کے موقع پر ترک وزیر خارجہ یاشار گولر اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی ملاقات ہوئی ، دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون بڑھانے پراتفاق کیا۔ علاوہ ازیں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے سعودی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں دفاعی تعاون اوراسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مکہ دفاعی معاہدے پر ترکیے کے صدر رجب طیب ایردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد علاقائی تعاون کے نئے کلچر کو فروغ دینا بھی ہے۔



