جماعت اسلامی نے کل 3 ستمبر کو ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ چینی کی قیمت بڑھنے کے بعد اس کی برآمد کی کی اجازت دی گئی، جس کے نتیجے میں قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ عوام کو مسلسل مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اسٹوریج موجود ہونے کے باوجود پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں، ریفائنریز اور آئل کمپنیوں کے ساتھ حکومتی گٹھ جوڑ کا اثر بھی عوام پر ڈالا جاتا ہے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ کسی صورت قبول نہیں۔
مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عوام پر بوجھ ڈال کر بڑے طبقے کو سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں ، اگر روٹی 20 سے 25 روپے میں ملے گی تو غریب لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کیسے کھلائیں گے؟۔ حکومت ریلیف کے دعوے کرتی ہے تو ٹیکس بھی ختم کرے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ عوام، نوجوانوں، غریبوں اور مڈل کلاس طبقے کی تحریک ہے، مختلف طبقات ہماری ہڑتال اور تحریک کی حمایت کر رہے ہیں، وکلاء سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد تحریک میں موثر کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی کال، اسلام آباد اور راولپنڈی میں دھرنوں سمیت تمام آپشنز موجود ہیں۔ کل شام آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم لیوی اور بھتہ ٹیکس کی وصولی، آئی پی پیز کے معاہدوں اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر 17 روز سے دھرنا جاری ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میں بھی جماعت اسلامی کے کارکن دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔



