پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے۔
وزیراعظم شہبازشریف اور کرغزستان کے صدر صادرژاپاروف نے مشترکہ اعلامیے پر دستحط کیے۔ دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ تجارت کے حوالے سے معاہدے پر دستخط ہوئے ، اس کے علاوہ لاہور اور کرغز شہر اوش کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ ہوا۔
پاکستان اور کرغزستان کی خارجہ امور کی وزراتوں کے درمیان تعاون کے پروگرام سے متعلق دستاویز کا تبادلہ کیا گیا۔
علاوہ ازیں انسٹی ٹیوف آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد اور کرغز نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت ، منشیات ،نشہ آور اشیاء اوراسمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اور کرغز وزارت صحت کے درمیان طبی تعلیم میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت ، ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا۔
این ڈی یو اسلام آباد اورکرغزنیشنل انسٹی ٹیوٹ فاراسٹریٹجک انیشی ایٹوز کے درمیان تحقیق کے شعبے میں ایم او یو پر بھی دستخط کئے گئے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کے بشکیک میں صدارتی محل آمد پر پاکستان اور کرغزستان کے قومی ترانے بجائے گئے۔کرغزستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم کو سلامی دی اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
معاہدوں پر دستخط کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کرغزستان کے صدر صادرژاپاروف نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کو بشکیک آمد پرخوش آمدید کہتے ہیں ، پاکستان اور کرغزستا ن کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں ، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔
کرغز صدر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے خواہاں ہیں، پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات باہمی احترام اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، علاقائی روابط اور تجارت کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں، مشکل وقت میں باہمی تعاون اور یکجہتی دونوں ممالک کی دیرینہ روایت ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بہترین میزبانی پر کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کا شکر گزار ہوں، دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے دوطرفہ تعاون کو نئی سطح پر لے جائیں گے، پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت اور شعبہ سرمایہ کاری میں تعاون کی گنجائش موجود ہے،
علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کرغزستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔
تجارتی حجم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، دونوں ممالک تجارتی حجم بڑھانے کے لیے قوانین کو مزید آسان بنائیں گے، باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ دوطرفہ مذاکرات میں تجارتی تعلقات کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، باہمی تعلقات کو اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے، امید ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔
انہوں نے توانائی کے شعبے میں CASA-1000 منصوبے پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے بجلی، پن بجلی، قابل تجدید توانائی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی میں عملی تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کا خیر مقدم کیا۔ اور ٹرانزٹ ٹریفک سے متعلق چار فریقی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد اور نقل و حمل، کسٹمز اور انتظامی طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف مل کر کام کریں گے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے بھی اتفاق رائے طے پایا ہے، مختلف دوطرفہ، علاقائی اور عالمی فورمز پر تعاون بڑھایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس سی او سربراہ اجلاس کا کامیاب انعقاد کرغز قیادت کی بہترین صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، ایس سی او پلیٹ فارم سے علاقائی رابطے، پائیدار ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کا حصول ناگزیر ہے۔
