لاہور: سابق کپتان شاہد آفریدی نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ کے فیصلے کی منطق اور وجہ سمجھ نہیں آ رہی۔
شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی ٹوئنٹی کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے، آخر یہ کیسی سوچ اور حکمت عملی ہے؟
سابق کپتان نے سوال اٹھایا کہ صرف پانچ ٹیسٹ میچز کے بعد کوچ کو کیوں ہٹا دیا گیا؟ ان کے مطابق سلیکشن کمیٹی کا یہ اب تک کا سب سے حیران کن فیصلہ ہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فیصلے ضرور ہونے چاہئیں تاہم فیصلوں کے پیچھے واضح سوچ اور حکمت عملی بھی نظر آنی چاہیے۔
<blockquote class=”twitter-tweet”><p lang=”en” dir=”ltr”>Not sure what is the logic or reasoning behind this decision! Even the replacements make no sense – T20 players have been included for a Test match in England? What is this thinking and approach? Why has the coach been axed after 5 Test matches? This is the most shocking decision…</p>— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) <a href=”https://x.com/SAfridiOfficial/status/2094471028433137815?ref_src=twsrc%5Etfw”>August 31, 2026</a></blockquote> <script async src=”https://platform.x.com/widgets.js” charset=”utf-8″></script>
تیسرے ٹیسٹ سے قبل ٹیم میں بڑی تبدیلیاں
انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل پی سی بی نے پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کردی ہیں۔ بورڈ نے محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو اسکواڈ سے ریلیز کردیا ہے۔
ان کی جگہ سات کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں صائم ایوب، عبداللہ فضل، عرفات منہاس، محمد عمران جونیئر، سعد بیگ، محمد عمران عرف عمران رندھاوا اور رضا اللہ شامل ہیں۔ ان میں پانچ کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی دفعہ ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیے گئے ہیں۔
پی سی بی نے کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے سرفراز احمد اور عمر گل کو ریلیز کردیا جبکہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں انگلینڈ کو پہلے دو میچز میں دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے، تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔



