کوہاٹ میں ہونے والے دھماکے پر وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختیارولی خان نے کہا کہ کوہاٹ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، دھماکے میں کئی افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، زخمیوں میں پولیس اہلکار اور شہری بھی شامل ہیں، ایسے حالات میں صوبے کا وزیراعلیٰ کہاں ہے؟ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ٹک ٹاک بنانے سے فرصت ہی نہیں۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے کہا کہ صوبے کے عوام کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ کو فوری طور پر واپس آنا چاہیے، یہ لوگ شہیدوں کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے۔
صوبے کی پولیس، ڈاکٹرز اور خاصہ دار فورس کے اہلکار ہڑتال پر ہیں، جبکہ پولیس سے اعلیٰ تعلیم تک نظام بیٹھ گیا ہے لیکن وزیراعلیٰ صوبے سے غائب ہیں۔
اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اور اقرباپروری عروج پر ہے، صحت اور تعلیم کا نظام بیٹھ چکا ہے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز دہائیاں دے رہے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے صورتحال پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی انتظامی صورتحال تشویشناک ہے، صوبے کے عوام ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو احتجاج کے بجائے صوبے پر توجہ دینی چاہیے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
اختیارولی خان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا 16 دن سے صوبے سے غائب ہیں، موجودہ حالات میں صوبے کی پولیس کا مورال بلند کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ صحت، تعلیم اور امن و امان سمیت اہم شعبوں کو فوری توجہ درکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کوعوام کے مسائل حل کرنے، امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بحال کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
اختیار ولی خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں صوبے کو مؤثر انتظامی قیادت اورعوامی مسائل پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔



