اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا۔
جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل آنے والی خصوصی میڈیکل ٹیم واپس روانہ ہو گئی، پمز اسپتال کے ڈاکٹر عارف خان میڈیکل ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے ،میڈیکل ٹیم میں پمز اسپتال کے ماہر امراضِ چشم سمیت دیگر ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف شامل تھا۔
جیل ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی کے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور آنکھوں سمیت مکمل طبی معائنہ کیا گیا، میڈیکل ٹیم کو اڈیالہ جیل اسپتال کے طبی عملے کی بھی معاونت حاصل تھی۔
اس سے قبل بھی پمز اسپتال کے ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کر چکی ہے۔
سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم
یاد رہے کہ ایک مہینہ قبل سپریم کورٹ نے عمران خان کو 2 روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مکمل میڈیکل ریکارڈ طلب کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے عمران خان کی صحت، علاج اور اہلخانہ سے ملاقاتوں سے متعلق کیس میں 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا۔
عدالت نے حکومت کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت اور رابطے کے بعد عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی تھی۔
طبی معائنے اور ضروری ٹیسٹ کے بعد عمران خان دوبارہ جیل منتقل
تحریری حکمنامے میں عمران خان سے اہل خانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات یقینی بنانے اور انہیں اپنے بیٹوں سے ہفتے میں 2 مرتبہ ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دینے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد عمران خان کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لایا گیا تھا جہاں طبی معائنے اور ضروری ٹیسٹ کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں پمز کے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ طبی معائنے میں شفا انٹرنیشنل اسپتال کے دو امراضِ چشم کے ماہرین نے عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ کیا جبکہ پمز کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز نے سابق وزیرِ اعظم کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ آنکھوں کے ڈاکٹرز کی رپورٹ اور پمز کے ڈاکٹرز کی جانب سے کیے گئے طبی معائنے کی روشنی میں مفصل میڈیکل فٹنس رپورٹ مرتب کی گئی تاہم سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی اور مریض کی پرائیویسی کے پیشِ نظر میڈیکل رپورٹ کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
سپریم کورٹ سے عمران خان کی اسپتال منتقلی کیس کا ریکارڈ طلب
چند روز قبل وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے عمران خان کی اسپتال منتقلی کیس کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 3 قیدیوں کو نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ عمران خان کی شفاء اسپتال منتقلی کے ریکارڈ سمیت دیگر ہائیکورٹس میں بھی اس نوعیت کا کوئی بھی کیس زیرالتوا ہو تو اس کا ریکارڈ بھی بھجوایا جائے۔
قیدیوں کو نجی اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کا معاملہ عمران خان کے طبی علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے حکم کے بعد سامنے آیا۔



