عمران خان کے بیٹوں کے شناختی کارڈ نمبر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر وزیر دفاع خواجہ آصف تنقید کی زد میں ہیں جبکہ صارفین ذاتی معلومات اور ڈیٹا کی حفاظت اور رازداری کے سوال اٹھا رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے گزشتہ روز اپنے آفیشل ایکس اور فیس بک اکاؤنٹس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں نے سمندر پار پاکستانیوں کے شناختی کارڈ، جسے نائیکوپ کہا جاتا ہے، کا استعمال کرتے ہوئے آخری بار 2022 میں پاکستان کا سفر کیا تھا، اور اگر وہ چاہیں تو آج بھی اسی کارڈ پر پاکستان آ سکتے ہیں۔
بانی pti کے بچوں نے ان NICOP پہ آخری دفعہ 2022 میں پاکستان سفر کیا تھا۔ اور آج اگر چاہئیں تو پاکستان تشریف لا سکتے ھیں۔ دونوں NICOP valid ھیں ۔ فیملی یا pti کا یہ تاثر دینا کہ حکومت انکو ویزا نہیں دے رہی غلط ھے۔ NICOP کی موجودگی جب چاہیں پاکستان سفر کر سکتے ھیں۔ ویزا کی کوئی…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) August 30, 2026
اس کے ساتھ ہی انہوں نے عمران خان کے دونوں بیٹوں، سلیمان خان اور قاسم خان، کے نائیکوپ نمبر اور ان کی تاریخ اختتام بھی شیئر کی۔
وزیر دفاع کی یہ پوسٹ 27 اگست کو اسکائی اسپورٹس پر عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو نشر ہونے کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے عمران خان کو طبی مسائل کے باوجود علاج کی سہولیات میسر نہ ہونے، انہیں قید تنہائی میں رکھنے اور خاندان سے باقاعدگی سے ملاقات نہ کرائے جانے کے الزامات عائد کیے۔
Sarfaraz Ahmed said he and his players did not know about a Pakistan Cricket Board threat to the England and Wales Cricket Board over a Sky interview with the sons of Imran Khan.
During lunch on day one of the second Test, Sky Sports aired an interview with Suleiman and Kasim… pic.twitter.com/nxgWDjrYOc
— Test Match Special (@bbctms) August 28, 2026
اسکائی اسپورٹس کے اس اقدام پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے باقاعدہ احتجاج کیا اور مبینہ طور پر دھمکی دی تھی کہ انٹرویو نشر ہونے کی صورت میں ان کے کھلاڑی لنچ بریک کے بعد میچ کے بقیہ حصے میں شامل نہیں ہونگے۔ تاہم، انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے ساتھ بات چیت کے بعد میچ خوش اسلوبی سے مکمل ہوا، جس میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست ہوئی اور سیریز انگلینڈ کے نام ہو گئی۔
‘ذاتی معلومات شیئر کرنا جرم ہے’
شفیق قریشی نامی ایک صارف نے خواجہ آصف کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ 2016 کے تحت “کسی دوسرے شخص کی شناختی معلومات کی غیر مجاز ترسیل یا استعمال جرم ہے۔”
In a shocking move a Minister of the @CMShehbaz Cabinet – Khawaja Asif has publicly shared the private identity data of the two sons of #ImranKhan in a post on his account.@KhawajaMAsif asked the dual national sons of jailed former Prime Minister to travel on their National… pic.twitter.com/Uf8cd7G1qJ
— Shafek Koreshe (@shafeKoreshe) August 30, 2026
واضح رہے کہ شفیق سرکاری خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے سابق ڈائریکٹر نیوز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “نادرا آرڈیننس بھی شہریوں کے شناختی ریکارڈ کو رازدارانہ تصور کرتا ہے اور غیر مجازانکشاف کو خلاف قانون گردانتا ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 14 بھی شہریوں کے وقار اور رازداری کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔
کسی کی شناختی اور ذاتی معلومات کو پبلک کرنے پر متعدد دیگر صارفین نے بھی تشویش کا اظہار کیا جبکہ چند صارفین نے ایکس سے اس پوسٹ پر ایکشن لینے کی بھی اپیل کی۔
یاد رہے کہ ‘شناختی معلومات کے غلط استعمال’ سے متعلق پیکا ایکٹ 2016 کا آرٹیکل 16 (1) واضح کرتا ہے کہ “کسی دوسرے شخص کی شناختی معلومات کو غیر مجاز طریقہ سے حاصل کرنے، اپنے پاس رکھنے، آگے ترسیل کرنے، یا کسی کو بیچنے والے شخص کو 3 سال تک قید یا 50 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔”
‘نائیکوپ پر پاکستان آئیں اور گرفتار ہو جائیں؟’
خواجہ آصف کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے دیگر کئی صارفین نے دلائل دیے کہ عمران خان کے بیٹے گرفتاری کے خدشے کے تحت نائیکوپ پر پاکستان کا سفر کرنے سے گریز کر رہے ہونگے۔ صارفین کے اس گروپ کا ماننا ہے کہ نائیکوپ استعمال کرکے پاکستان پہنچنے پر قاسم اور سلیمان کیساتھ برطانوی شہری کی طرح نہیں بلکہ پاکستانی شہری کی طرح سلوک کیا جائیگا، اور بعید از امکان نہیں کہ ان کا انجام بھی جیل میں قید اپنے والد کی طرح ہو۔
اگر وہ برطانوی پاسپورٹ پر سفر کرنا چاہتے ہیں تو اُنہیں ویزہ دو وہ نیکوپ پر سفر نہیں کرنا چاہتے جو اس وقت حالات پاکستان کے آپ لوگوں نے کیے ہوئے ہیں کون ہی وہاں آ سکتا ہے لمبی چوڑی کہانی سنانے کی بجائے اُنہیں ویزہ دو وہ آئیں آپ لوگ اپنی خصلت سے مجبور اُنہیں گرفتار کر لو کم از کم…
— Erum Jaffri (@ErumJavaid) August 31, 2026
اس کے علاوہ صارفین کی بڑی تعداد وزیر خارجہ کی پوسٹ پر مغلظات دینے اور ان پر ذاتی حملے کرنے والوں میں شامل تھی۔
بعض صارفین ایسے بھی تھے جنہوں نے خواجہ آصف کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ اگر عمران خان کے بیٹے نائیکوپ ہونے کے باجود ان سے ملاقات کرنے پاکستان نہیں آ رہے تو ملک میں ہی موجود ان کی بہنوں کو کونسا باقاعدگی سے ملاقات کرنے دی جا رہی ہے۔


