واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدور کی اپنی تیار کردہ درجہ بندی سوشل میڈیا پر جاری کردی، جس میں انہوں نے خود کو تنہا ’’دی گریٹسٹ‘‘ یعنی سب سے عظیم صدر قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں امریکی صدور کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے، ابراہم لنکن، جارج واشنگٹن، فرینکلن ڈی روزویلٹ، تھامس جیفرسن، اینڈریو جیکسن اور وُڈرو ولسن کو ’’گریٹ‘‘ قرار دیا گیا جبکہ تھیوڈور روزویلٹ کو ’’نیئر گریٹ‘‘ کے درجے میں رکھا گیا۔
فہرست میں بل کلنٹن سمیت متعدد سابق صدور کو ’’ایوریج‘‘ جبکہ کیلون کولج کو ’’بیلو ایوریج‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ سابق صدور براک اوباما، جو بائیڈن، جمی کارٹر، یولیسیز ایس گرانٹ اور وارن ہارڈنگ کو ’’فیلئرز‘‘ کے درجے میں شامل کیا گیا۔
ٹرمپ کی درجہ بندی میں کئی معروف سابق صدور، جن میں جان ایف کینیڈی، رونالڈ ریگن، رچرڈ نکسن، ہیری ٹرومین، جیرالڈ فورڈ، ڈوائٹ آئزن ہاور اور دونوں بش صدور شامل ہیں، فہرست سے خارج ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی جاری کردہ فہرست 1948 میں لائف میگزین کی جانب سے امریکی تاریخ کے ماہرین کی ایک درجہ بندی سے مماثلت رکھتی ہے تاہم موجودہ فہرست میں ٹرمپ سمیت بعد کے بعض صدور کا اضافہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’جھیل امریکا‘‘ رکھنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کو جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر میں نام کی تبدیلی کا حکم دیا، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکی محکمہ داخلہ اور وزیر داخلہ ڈگ برگم کو نام کی تبدیلی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
President Trump just posting these Presidential rankings on Truth Social! We already know who the greatest ever is!🇺🇸 pic.twitter.com/upPRM4BIJC
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) August 27, 2026
جھیل اونٹاریو شمالی امریکا کی پانچ عظیم جھیلوں میں شامل ہے اور اس کی سرحد کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک سے ملتی ہے۔ جھیل دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی اور اقتصادی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے دفتر نے نام کی تبدیلی سے متعلق رائٹرز کی جانب سے طلب کیے گئے مؤقف پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔


