سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں فروری کے آخری ہفتے میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر عمان کی ثالثی میں باقاعدہ مذاکرات جاری تھے کہ 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کر دیے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ نے نہ صرف عالمی اقتصادی نظام کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا کے ایک بڑے حصے کو سلامتی کے خطرے سے دوچار کردیا۔
آج اس جنگ کو پورے چھ ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔ آئیے اب تک پیش آنے والے اہم واقعات اور پیش رفت پر ایک نظر ڈالتے ہیں؛
حملوں کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا نے ایران میں ’بڑی جنگی کارروائی‘ شروع کر دی ہے، جس کا مقصد ’ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق خطرات کو ختم کرنا‘ ہے۔
انہوں نے فخریہ انداز میں کہا کہ “یہ (ایرانی) حکومت جلد سیکھ جائے گی کہ کسی کو بھی امریکی مسلح افواج کی طاقت اور قوت کو چیلنج نہیں کرنا چاہیے۔”
28 فروری — ایران پر حملوں کا آغاز
امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی شروع کی۔ امریکی آپریشن کا نام ‘ایپک فیوری’ رکھا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق پہلے مرحلے میں 100 سے زیادہ طیاروں نے ایران پر ایک منظم حملہ کیا۔
میناب سکول حملہ — جنگ کا سب سے بڑا سانحہ

جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی اس تنازعے کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہوا جب امریکی اور اسرائیلی حملوں میں میناب کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا۔
اس حملے میں خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 120 بچوں سمیت 156 افراد کے جاں بحق ہوئے۔ ان میں ایک حاملہ خاتون اور اس کی کوکھ میں بچہ بھی شامل تھے۔
آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت
امریکا کے پہلے دن کے حملوں کا ہدف ایرانی قیادت، فوجی کمانڈ، میزائل اور جوہری تنصیبات تھیں۔ اسی ابتدائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کردیا گیا۔

بعد میں امریکی حکام نے بتایا کہ خامنہ ای کی موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس نے حملے کے وقت کے تعین میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس کے علاوہ پہلے دن ہی امریکی و اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے سربراہ اور ایران کے سب سے اہم فوجی کمانڈروں میں سے ایک محمد پاکپورشہید ہوہے، انہوں نے جون 2025 کی جنگ میں حسین سلامی کی موت کے بعد پاسداران کی کمان سنبھالی تھی۔
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی بھی پہلے دن ہی حملوں میں مارے گئے جبکہ وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، دفاعی کونسل کے سیکریٹری اور خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی، خامنہ ای کے ملٹری آفس کے سربراہ محمد شیرازی سمیت کئی اعلیٰ حکام بھی جنگ کے پہلے روز امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملوں کا نشانہ بن گئے۔
ایران کا فوری جوابی حملہ
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے چند گھنٹے بعد ہی ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے شروع کردیے۔

ایرانی حملوں میں اسرائیل کے علاوہ بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عراق میں امریکی مفادات یا تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے مرکز کے قریب بھی حملے کی اطلاعات آئیں۔ جس کے بعد اس جنگ کی آگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
مارچ: آبنائے ہرمز کی بندش
ایرانی جوابی کارروائیوں کے ساتھ ہی دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز تقریباً بند ہوگئی۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔

خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں اور عالمی منڈی میں قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں۔ اور اسی کے ساتھ ہی یہ جنگ پہلی مرتبہ براہ راست عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کا مسئلہ بن گئی۔
ٹرمپ کا ’غیر مشروط سرنڈر‘ کا مطالبہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط سرنڈر کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی نئی قیادت کے انتخاب میں امریکا کا کردار ہونا چاہیے۔
اس بیان نے فوری سفارتی حل کے امکانات مزید کم کردیے۔ اسی دوران ایران نے میزائل حملے جاری رکھے اور اسرائیل نے ایران کے ساتھ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کردیں؟۔
جس کے بعد امریکی جنگی اہداف صرف ایرانی جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہے بلکہ ایرانی سیاسی نظام اور قیادت بھی بحث کا حصہ بن گئے۔
جنگ تیزی سے علاقائی جنگ میں بدل گئی
مارچ کے دوران ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے، جبکہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی میزائل، فضائی دفاع، بحری اور کمانڈ تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا۔

لبنان بھی جنگ میں مزید الجھ گیا اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔
اسی دوران تیل کی عالمی قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں۔ صرف ایک ہفتے میں امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد اور برینٹ میں تقریباً 27 فیصد اضافہ ہوا۔
امریکا کے لیے ’جلد ختم ہونے والی جنگ‘ کا تصور کمزور
جنگ کے تین ہفتے بعد بھی ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایرانی میزائل حملے جاری رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس مرحلے پر ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے دو بڑے مسائل نمایاں ہوگئے: جنگ کا واضح اختتامی منصوبہ اور عالمی توانائی بحران۔
جس کے ساتھ ہی واشنگٹن کو اندازہ ہونے لگا کہ ایران کو صرف فضائی حملوں سے فوری طور پر مذاکرات پر مجبور کرنا آسان نہیں ہوگا۔
مارچ کا اختتام — جنگ کے معاشی اثرات شدید
مارچ کے اختتام تک آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں شدید کمی آچکی تھی۔ خلیج میں تقریباً 15 ملین بیرل یومیہ خام تیل اور مزید تقریباً 4.5 ملین بیرل یومیہ ریفائنڈ مصنوعات کی ترسیل متاثر ہوئی۔
دنیا میں تیل کی قلت کا خدشہ پیدا ہوا اور امریکا سمیت کئی ممالک نے اپنے تزویراتی تیل کے ذخائر استعمال کرنے پر غور شروع کیا۔
اپریل — جنگ بندی اور پاکستان کی سفارتی مداخلت
اپریل کے آغاز میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہوئیں۔ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

ایک موقع پر مذاکرات تقریباً ناکام ہوگئے تھے، خصوصاً سعودی عرب میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب پر ایرانی حملے کے بعد۔ تاہم اس دوران پاکستان نے امریکی، ایرانی اور سعودی قیادت سے مسلسل رابطے کیے۔
بالآخر پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کی انتھک کوششوں کے بدولت دونوں فریق عارضی جنگ بندی اور مذاکرات پر رضامند ہوگئے۔
اس طرح پہلی مرتبہ جنگ کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد امریکا اور ایران براہ راست سیاسی حل کی طرف بڑھے اور پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا۔
اسلام آباد میں مذاکرات
جنگ بندی کے بعد امریکی اور ایرانی وفود اسلام آباد پہنچے۔ تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود مستقل معاہدہ نہ ہوسکا۔
امریکا ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور علاقائی سکیورٹی سے متعلق ضمانتیں چاہتا تھا، جبکہ ایران جنگ بندی، پابندیوں کے خاتمے، جوہری توانائی کے حق اور آبنائے ہرمز پر اپنے اختیار سے متعلق مطالبات رکھتا تھا۔
اس طرح خطے میں جاری ایک خوفناک جنگ تو وقتی طور پر رک گئی لیکن جنگ ختم کرنے کے بنیادی سوالات حل نہ ہوسکے۔
مئی — مستقل معاہدے کی پہلی بڑی کوشش
مئی میں پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری رہے۔ سب سے اہم مسئلہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا۔
27 مئی کو ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک ابتدائی امریکی ایرانی فریم ورک کی تفصیلات نشر کیں۔ اس میں تجارتی جہازوں کے لیے ہرمز کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور خطے سے امریکی فوجی دباؤ کم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔
جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ
امریکا اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع اور مزید مذاکرات پر اتفاق کیا۔ تاہم بنیادی اختلافات برقرار رہے۔
یوں جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی جس میں بموں کے بجائے مذاکرات، پابندیاں اور ہرمز مرکزی ہتھیار بن گئے۔
جون — امن معاہدے کی بڑی پیش رفت
جون میں امریکا اور ایران نے ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق کیا جس کا مقصد جنگ بندی کو مزید 60 دن جاری رکھنا اور اس دوران مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا تھا۔
اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ پر دستخط کیے۔ پاکستان نے بطور ثالث اور گواہ معاہدے پر دستخط کیے
امریکا اور ایران نے اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ پر دستخط کیے۔ پاکستان نے بطور ثالث اور گواہ معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدے میں فوری جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو 60 دن کے لیے تجارتی آمدورفت کے لیے کھولنے اور مستقل امن معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکرات پر اتفاق کیا گیا۔ قطر نے بھی مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی میزبانی میں جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی باضابطہ دستخط تقریب ہونا تھی، تاہم چونکہ صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت پہلے ہی معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر چکی تھی، اس لیے تقریب منسوخ کردی گئی۔
لبنان محاذ سے امن مذاکرات میں رکاوٹ
ایران امریکا مذاکرات کے دوران لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی۔ اس سے وسیع تر امن معاہدہ خطرے میں پڑ گیا۔

19 جون کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی ہوئی، جس کے بعد امریکا اور ایران کے مذاکرات دوبارہ آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔
اس طرح یہ واضح ہوگیا کہ ایران امریکا جنگ صرف دو ملکوں کا معاملہ نہیں رہی۔ لبنان، اسرائیل، خلیجی ممالک
اور آبنائے ہرمز سب امن معاہدے کے حصے بن چکے تھے۔
جولائی — جنگ کی آگ دوبارہ بھڑک اٹھی
60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران بنیادی اختلافات ختم نہ ہوسکے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام، پابندیوں اور ہرمز پر ضمانتیں چاہتا رہا، جبکہ امریکا ایرانی جوہری اور میزائل صلاحیت پر سخت شرائط عائد کرنا چاہتا تھا۔
امریکی حملوں کا نیا سلسلہ
جولائی میں جنگ بندی ایک مرتبہ پھر شدید دباؤ میں آگئی اور امریکا نے ایران کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کیے۔
22 جولائی کو امریکی فوج نے اعلان کیا کہ تازہ حملوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔ یہ مسلسل 11 راتوں تک جاری رہنے والی امریکی فضائی کارروائی تھی۔

یوں اپریل اور جون کی سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ ایک بار پھر فوجی مرحلے میں داخل ہوگئی۔
اگست کا آغاز — معاشی و سفارتی دباؤ میں اضافہ
جولائی کے حملوں کے بعد امریکا نے مزید بڑے پیمانے کے فضائی حملوں کے بجائے معاشی اور سفارتی دباؤ بڑھانا شروع کیا۔
امریکی حکام کے مطابق نئی فوجی کارروائی فوری طور پر ترجیح نہیں رہی، جبکہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھایا گیا۔
مذاکرات کی نئی امید
قطر نے اعلان کیا کہ ثالثی کی کوششوں میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ ایران نے اس وقت امریکی دعوؤں کی
تردید کی کہ باضابطہ مذاکرات شروع ہوچکے ہیں۔
60 روزہ مذاکراتی مدت ختم
جون کے معاہدے میں طے کردہ 60 روزہ مذاکراتی دور اگست میں ختم ہوگیا، لیکن مستقل امن معاہدہ نہ ہوسکا۔
ایرانی حکام آبنائے ہرمز پر اپنے پرانے موقف پر قائم رہے اور ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات جاری رہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیرکا دورہ تہران
پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو ایک اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تہران کا دورہ کیا۔
یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا عمل تعطل کا شکار تھا، امریکا ایران پر مزید سخت پابندیوں کی تیاری کر رہا تھا اور آبنائے ہرمز بدستور بنیادی تنازع بنی ہوئی تھی۔

دورے کے دوران عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سمیت اہم ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
امریکا کی ’تاریخ کی سخت ترین پابندیوں‘ کی دھمکی
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کی تیاری کا اعلان کیا۔
امریکا نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو بھی دباؤ میں لانے کا اشارہ دیا، خصوصاً چین کو، جو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
ہرمز میں جہاز رانی تقریباً مفلوج
آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت انتہائی کم سطح پر پہنچ گئی۔ 21 اگست کو صرف سات کموڈیٹی جہاز ہرمز سے گزرے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ راستہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور ایل این جی ترسیل کا مرکز تھا۔
25 اگست کو امریکا نے مزید 60 افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کیں۔ ایران نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جواب دینے کی دھمکی دی۔ اسی دوران پاکستان نے دوبارہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
ایران اور عمان کا ہرمز پر نیا انتظام
26 اگست کو ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے انتظام اور آمدنی کی تقسیم سے متعلق ایک معاہدہ طے کرلیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی تفصیلات اور عملی نفاذ ابھی واضح نہیں۔
چھ ماہ کی جنگ کے بعد ہرمز اب صرف جنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ امن معاہدے کا مرکزی مسئلہ بن چکا ہے۔
قطر کی نئی ثالثی

27 اگست کو ایران امریکا مذاکرات کے بند دروازے کھولنے کے لیے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی ایران پہنچے جہاں انہوں نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق قطری وزیراعظم کے دورے کے دوران بات چیت کے اہم موضوعات میں:
• آبنائے ہرمز کھولنا
• جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال کرنا
• امریکی پابندیاں
• ایران کا جوہری پروگرام
• امریکی بحری ناکہ بندی
• مستقبل کی جنگ بندی شامل ہیں۔
چھ ماہ بیت گئے مگر دونوں فریقین ایک پیج پر نہ آسکے!
امریکا نے ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا، خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت کو ختم کیا اور ایرانی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا، لیکن ایران میں حکومت تبدیل ہوئی نہ رجیم تبدیل ہوسکی، ایران نے سرنڈر نہیں کیا اور آبنائے ہرمز کی صورت حال بھی اب تک معمول پر نہیں آسکی ہے۔
اسی لیے چھ ماہ بعد جنگ کی سب سے درست تصویر ’’جنگ ختم نہیں ہوئی، بلکہ فوجی محاذ سے معاشی اور سفارتی محاذ پر منتقل ہوگئی ہے‘‘۔ رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران ایک ایسی صورت حال میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں دونوں فریق اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
