ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ انہوں نے آج صبح اوسلو کے قومی اسپتال میں مقامی وقت کے مطابق 6 بج کر 35 منٹ پر آخری سانس لی۔ وہ گزشتہ ہفتے ایک نایاب خون کی بیماری کے علاج کے لیے اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔
بادشاہ ہیرالڈ کے انتقال کے بعد اوسلو میں شاہی محل کی چھت پر لہراتا شاہی پرچم سرنگوں کردیا گیا۔ ان کی وفات سے قبل 24 گھنٹوں کے دوران شاہی خاندان کے افراد نے اسپتال میں ان کی عیادت کی، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد نے محل کے باہر پھول رکھ کر بادشاہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔

ہیرالڈ پنجم کے بعد ان کے بیٹے ہاکون نے ناروے کے نئے بادشاہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
زندگی پر ایک نظر
ہیرالڈ پنجم ناروے کے پہلے ایسے بادشاہ تھے جو 14ویں صدی کے بعد ناروے ہی میں پیدا ہوئے۔ وہ 21 فروری 1937 کو اوسلو کے قریب اسکاؤگم اسٹیٹ میں پیدا ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں جب نازی جرمنی نے ناروے پر حملہ کیا تو ہیرالڈ کی عمر صرف تین برس تھی۔
2011 میں اوسلو اور جزیرے اوتویا میں بم دھماکوں اور فائرنگ کے حملوں کے بعد بادشاہ ہیرالڈ نے ناروے کے عوام سے ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور خوف کو حاوی نہ ہونے دینے کی اپیل کی تھی۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 77 افراد مارے گئے تھے۔
شاہی امور کے مبصرین کے مطابق ہیرالڈ عوام میں گھلنے ملنے والے، قابل احترام اور انتہائی محبوب بادشاہ تھے۔ انہیں ناروے کا ’’عوامی بادشاہ‘‘ اور قوم کا ’’دادا‘‘ بھی کہا جاتا تھا، یہ لقب ان کے والد بادشاہ اولاو پنجم کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا۔
35 سال تک تخت پر رہنے والے ہیرالڈ کو ایک مقبول اور اصلاح پسند بادشاہ کے طور پر یاد کیا جائے گا، جنہوں نے ناروے کی بادشاہت کو جدید بنانے میں کردار ادا کیا اور روایتی شاہی اقدار سے ہٹ کر عام شہری سے شادی کرکے ایک نئی مثال قائم کی۔

جنگ کے دوران ان کی والدہ اپنے بچوں کے ہمراہ سویڈن چلی گئیں، جہاں سے وہ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی دعوت پر امریکا روانہ ہوئے۔ جنگ کے اختتام پر ہیرالڈ اپنے خاندان کے ساتھ ناروے واپس آئے، جہاں انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ لازمی فوجی تربیت بھی حاصل کی۔
1957 میں وہ ولی عہد بنے اور 1960 سے 1962 کے دوران برطانیہ کے بالیول کالج، آکسفورڈ میں سماجی علوم، تاریخ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔
ہیرالڈ کی نجی زندگی میں سب سے نمایاں واقعہ سونیا ہیرالڈسن سے ان کی شادی تھی۔ سونیا ایک کاروباری شخصیت کی بیٹی تھیں اور شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔ ہیرالڈ کو ان سے شادی کی اجازت کے لیے نو سال انتظار کرنا پڑا۔ ان کے والد بادشاہ اولاو کی خواہش تھی کہ وہ کسی یورپی شہزادی سے شادی کریں۔
تاہم ہیرالڈ نے اپنے والد سے کہا کہ اگر انہیں سونیا سے شادی کی اجازت نہ دی گئی تو وہ غیر شادی شدہ رہیں گے۔ بالآخر بادشاہ اولاو نے رضامندی دے دی اور دونوں کی شادی 29 اگست 1968 کو اوسلو کیتھیڈرل میں ہوئی۔ اس فیصلے نے شاہی خاندان میں عام شہریوں سے شادی کی راہ ہموار کی۔
1990 میں جب بادشاہ اولاو بیمار ہوئے تو ولی عہد ہیرالڈ نے قائم مقام سربراہ مملکت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ والد کے انتقال کے بعد 17 جنوری 1991 کو ہیرالڈ ناروے کے بادشاہ بن گئے۔
مورخین کے مطابق 2000 کے بعد ہیرالڈ کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی آئی اور ایک سنجیدہ، کم گو اور شرمیلے شخص کے بجائے وہ زیادہ کھلے، ہمدرد اور عوام کے قریب نظر آنے لگے۔
2016 میں بھی بادشاہ ہیرالڈ نے ایک تقریر کے ذریعے مذہب، نسل اور جنسی رجحانات کے حوالے سے تنوع کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ناروے کے لوگ افغانستان، پاکستان، پولینڈ، سویڈن، صومالیہ اور شام سمیت مختلف ممالک سے آئے ہیں اور مختلف عقائد رکھتے ہیں۔
کھیلوں میں دلچسپی
ہیرالڈ کھیلوں اور ماحولیات میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ ناروے میں ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر کے قیام کے ابتدائی محرکین میں شامل تھے اور 20 برس تک اس کی ناروے شاخ کے صدر رہے۔ وہ ماہر ملاح بھی تھے اور تین مرتبہ اولمپکس میں ناروے کی نمائندگی کی۔ 2022 میں انہوں نے مسابقتی کشتی رانی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔
ان کے دور حکومت میں شاہی خاندان کو صحت اور مالی معاملات میں زیادہ شفاف اور مساوی بنانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں شاہی خاندان کو صحت کے مسائل اور مختلف تنازعات کا سامنا رہا۔
شاہی خاندان سے متعلق تنازعات
بادشاہ ہیرالڈ کی بہو میٹے میریٹ کے جیفری ایپسٹین سے رابطوں اور ان کے بیٹے ماریئس بورگ ہویبی کے خلاف مقدمے نے شاہی خاندان کو مسلسل عوامی توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔ ماریئس کو جون میں اوسلو کی عدالت نے متعدد جرائم میں مجرم قرار دیتے ہوئے چار سال قید کی سزا سنائی، جس کے خلاف انہوں نے اپیل کی ہے۔
میٹے میریٹ کو بھی پھیپھڑوں کی ایک نایاب بیماری کا سامنا رہا اور اپنے بیٹے کے مقدمے کے اختتام کے دو روز بعد ان کا پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ ہوا۔
شاہی خاندان سے متعلق تنازعات کے باعث ناروے میں بادشاہت کی مقبولیت بھی متاثر ہوئی۔ ایک سروے کے مطابق بادشاہت کی حمایت 2024 میں 72 فیصد سے کم ہوکر 54 فیصد رہ گئی۔اس کے باوجود شاہی امور کے ماہرین کے مطابق بادشاہ ہیرالڈ کو ذاتی طور پر شدید تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور عوام کی ایک بڑی تعداد انہیں محبوب بادشاہ کے طور پر یاد کرتی ہے۔




