28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کیے جانے کے 6 ماہ بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہوچکی ہے، ایران نے ایک تباہ کن فوجی مہم کا مقابلہ کیا ہے لیکن اسے بھاری قیمت بھی چکانا پڑی ہے۔ اس کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا، معیشت سخت دباؤ کا شکار ہوئی اور خطے میں کئی دہائیوں میں قائم کیا گیا اس کا نیٹ ورک نمایاں طور پر کمزور ہوگیا۔
امریکا اور اسرائیل نے اپنی غیر معمولی فوجی برتری کا مظاہرہ کیا لیکن نہ تو ایران میں رجیم چینج ممکن ہوسکا اور نہ ہی کوئی پائیدار سیاسی سمجھوتا طے پایا۔ خلیج تنازع کا ایک اہم محاذ بن گئی جبکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں سے جنگ کے معاشی اثرات خطے سے باہر بھی پہنچ گئے ہیں۔
اس جنگ کا کوئی واضح فاتح یا مفتوح نہیں ہے، تاہم تنازع نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا ہے اور ایک بے چین کر دینے والا جمود قائم کیا ہے، فوجی دباؤ جاری ہے لیکن سفارت کاری کا عمل بھی رکا نہیں۔ پھر گزشتہ 6 ماہ کی غیر متوقع پیش رفت میں پاکستان کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم رابطہ کار بن کر ابھرنا بھی شامل ہے۔
آبنائے ہرمز اور عالمی معاشی بحران
آبنائے ہرمز نے علاقائی جنگ کو عالمی معاشی بحران میں تبدیل کردیا۔ ایران طویل عرصے سے یہ دھمکی دیتا رہا تھا کہ اگر اس کی بقا کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ توانائی کی اس انتہائی اہم گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے، اس مرتبہ یہ دھمکی عملی شکل اختیار کرگئی۔ بحری آمدورفت پر پابندیوں، تجارتی جہازوں پر حملوں اور اس کے بعد امریکی ناکہ بندی نے توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا اور شپنگ و انشورنس کے اخراجات میں اضافہ کردیا۔

اس کے اثرات خلیج سے باہر بھی محسوس کیے گئے، ایشیائی معیشتیں خلیجی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں جبکہ نقل و حمل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت بالآخر دنیا بھر کے کاروباروں اور صارفین تک پہنچتی ہے، گزشتہ 6 ماہ نے ایک بار پھر واضح کردیا کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والے واقعات مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہ سکتے۔
تاہم ایران کو اس دباؤ کا سیاسی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ تہران نے جنگ شروع نہیں کی تھی لیکن خلیجی ممالک اور تجارتی جہاز رانی کو متاثر کرنے والے حملوں نے ان ہمسایہ ممالک میں ایران کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جو تنازع سے دور رہنے کی کوشش کر رہے تھے۔
View this post on Instagram
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں بڑی حد تک امریکا اور اسرائیل کی فوجی مہم سے دور رہیں لیکن اس کے باوجود خود کو ایرانی یا ایران سے منسلک حملوں کے خطرے سے دوچار پایا۔
ایران کمزور ضرور ہوا، ختم نہیں
شدید فوجی اور معاشی دباؤ کے باوجود ایرانی ریاست برقرار رہی، جس سے ان حلقوں کی توقعات غلط ثابت ہوئیں جو سمجھتے تھے کہ مسلسل حملے ایرانی حکومت کا خاتمہ کردیں گے تاہم 6 ماہ بعد تہران کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔
ایران نے کئی دہائیوں میں جو علاقائی نیٹ ورک تشکیل دیا تھا وہ بری طرح کمزور ہوچکا ہے۔ شام میں ایران کی پوزیشن پہلے ہی ختم ہو چکی تھی، لبنان میں حزب اللہ کو بڑے دھچکے لگے ہیں جبکہ عراق میں بھی تہران کی نقل و حرکت کی گنجائش محدود ہوگئی ہے۔ اس صورتحال نے حوثیوں کو ایران کے لیے خطے میں دباؤ ڈالنے کے باقی ماندہ اہم ذرائع میں سے ایک بنا دیا ہے۔

لیکن اس کارڈ کو استعمال کرنا بھی اب مشکل ہوتا جا رہا ہے، سعودی عرب حوثی حملوں کو اپنی سرخ لکیر سمجھتا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے صورتحال کو مزید تبدیل کردیا ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ مفاہمت چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ سعودی عرب پر حملے رکوانا بھی چاہتا ہے۔ اب اس کی سیکیورٹی ذمہ داریوں کے باعث یہ تشویش مزید اہم ہوگئی ہے۔
واشنگٹن کی حکمت عملی میں تبدیلی
واشنگٹن نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی ماہ کی فوجی کشیدگی کے بعد اب اقتصادی دباؤ پر زیادہ زور دیتے دکھائی دیتے ہیں، ناکہ بندی، سخت تر پابندیوں اور ایرانی تجارت پر عائد پابندیوں کا مقصد فوری طور پر ایک اور بڑی جنگ شروع کیے بغیر تہران پر دباؤ بڑھانا ہے۔
اس دباؤ کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں، ایران کو آمدنی میں کمی، مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا ہے۔ امریکی حکمت عملی بظاہر سادہ ہے، اگر فوجی طاقت مطلوبہ سیاسی رعایتیں حاصل نہیں کرسکی تو مسلسل اقتصادی دباؤ شاید یہ مقصد حاصل کرسکے۔

تاہم یہ حکمت عملی کامیاب ہوگی یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے۔ ایران کئی دہائیوں سے پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے اور اس کی قیادت کے لیے امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دھمکیوں اور سفارت کاری کا عمل بیک وقت جاری ہے۔
پاکستان کا بڑھتا ہوا سفارتی کردار
اس تنازع میں پاکستان کا کردار گزشتہ 6 ماہ کی دلچسپ پیش رفت میں سے ایک ہے۔ اسلام آباد نے تہران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ روابط مضبوط کیے اور سیکیورٹی کے معاملے میں سعودی عرب کے مزید قریب آیا ہے۔ اس سے پاکستان کو وہ سفارتی رسائی ملی ہے جو اس وقت چند ہی ممالک کو حاصل ہے۔

پاکستان نے جنگ کی شدت کم کرنے اور سفارت کاری کے لیے راہ ہموار کرنے میں مدد دی۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد سوئٹزرلینڈ میں 60 روزہ مذاکراتی فریم ورک سامنے آیا۔ 60 روزہ مدت جامع معاہدے کے بغیر گزر چکی ہے لیکن اس عمل نے ایسے وقت میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا جب تنازعہ میں مزید کشیدگی کا خدشہ موجود تھا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا تازہ دورہ جو اس سال ان کا چوتھا دورہ ہے، ظاہر کرتا ہے کہ یہ رابطہ اب بھی فعال ہے۔ زیرِ بحث معاملات بحران کے بنیادی نکات سے متعلق ہیں۔ آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی، امریکی ناکہ بندی اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور ایران سے منسلک گروہوں، بالخصوص حوثیوں کے حملوں کا خاتمہ۔
عمان کا سفارتی راستہ
عمان بھی ایک الگ سفارتی راستے پر کام کر رہا ہے۔ اس کے وزیر خارجہ کی تہران کے ساتھ بات چیت کا محور آبنائے ہرمز کے معاملے پر درمیانی راستہ تلاش کرنا ہے۔ ان کوششوں سے مثبت اشارے مل رہے ہیں، اگرچہ کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے، فی الحال مذاکرات اور خطرات کے ساتھ کھیل، دونوں بیک وقت جاری ہیں۔

ایران کی علاقائی پوزیشن جنگ سے پہلے کے مقابلے میں واضح طور پر کمزور ہے۔ شام، لبنان اور عراق اب تہران کو وہی تزویراتی گنجائش فراہم نہیں کرتے جبکہ حوثیوں پر بہت زیادہ انحصار کی وجہ سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔
اسرائیل اور ٹرمپ کو بھی چیلنجز
اسرائیل کو بھی اپنے طور پر سوالات کا سامنا ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ وہ ایران کے اندر گہرائی تک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اسرائیل میں بعض حلقوں کی جانب سے متوقع وسیع تر مقصد یعنی تہران میں بنیادی سیاسی تبدیلی، حاصل نہیں ہوسکی۔ ایرانی نظام برقرار رہا۔ اس صورتحال نے فوجی کامیابی اور نامکمل سیاسی نتیجے کے درمیان فرق کو ایک ایسا مسئلہ بنا دیا ہے جس کا سامنا اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو اپنے ملک میں بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

ٹرمپ کے مقاصد بھی اسرائیل کی نسبت کچھ مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایسے معاہدے پر آمادہ ہوسکتے ہیں جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے، ایران کے علاقائی اتحادی گروہوں کو محدود کرے اور واشنگٹن کو یہ دعویٰ کرنے کا موقع دے کہ اس کا دباؤ کامیاب رہا۔ وہ ایران کو ازسرنو تشکیل دینے کے لیے غیر معینہ مدت تک جنگ جاری رکھنے میں بظاہر کم دلچسپی رکھتے ہیں۔
خلیجی ممالک کے لیے بڑا سبق
خلیجی ریاستوں کے لیے شاید سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جنگ سے دور رہنا بھی انہیں اس کے نتائج سے محفوظ نہیں رکھتا۔ وہ استحکام اور اقتصادی ترقی چاہتی تھیں، نہ کہ ایک اور علاقائی تصادم۔ اس کے باوجود ان کی سیکیورٹی، تجارت اور توانائی کی گزرگاہیں تیزی سے جنگ کی لپیٹ میں آگئیں۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان نئے سیکیورٹی انتظامات کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
آج 6 ماہ بعد ایران کمزور ضرور ہے لیکن شکست خوردہ نہیں۔ امریکا کو بہت بڑی فوجی اور اقتصادی برتری حاصل ہے لیکن یہ برتری تنازع کے بنیادی سیاسی سوالات حل نہیں کرسکی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بار کشیدگی بڑھنے کے بعد سفارت کاری دوبارہ رستہ لے لیتی ہے۔

پاکستان اس لیے اہم ہے کہ وہ اس وقت بھی ایسے دروازے کھلے رکھنے میں کامیاب رہا ہے جو دوسرے ممالک کے لیے بند تھے۔ اگرچہ پاکستان نے جنگ کا رخ طے نہیں کیا اور نہ ہی وہ کسی سمجھوتے کو مسلط کرسکتا ہے لیکن اس نے وسیع تر جنگ کی جانب بڑھتی ہوئی رفتار کو کم کرنے میں مدد دی اور واشنگٹن و تہران کے درمیان ایک اہم رابطے کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز کے معاملے میں عمان بھی اسی طرح ایک مفید کردار ادا کر رہا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
فوری سوال یہ ہے کہ موجودہ توازن کب تک برقرار رہ سکتا ہے۔ واشنگٹن کا اندازہ ہے کہ اقتصادی دباؤ بالآخر ایران کو زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کردے گا۔ تہران کا خیال ہے کہ وہ اتنی دیر تک دباؤ برداشت کرسکتا ہے کہ اپنی باقی ماندہ قوتِ سودے بازی کو برقرار رکھتے ہوئے قابل قبول شرائط حاصل کرلے۔ آبنائے ہرمز دونوں فریقوں کے حساب کتاب میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
چھ ماہ بعد صورتحال کی شاید یہی سب سے واضح تصویر ہے، ایران بھاری نقصان کے باوجود برقرار رہا جبکہ اسرائیل کی فوجی کامیابیاں وہ سیاسی تبدیلی پیدا نہ کرسکیں جس کی وہ خواہش رکھتا تھا۔ خلیجی ممالک نے اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کی جس سے وہ خود کو دور رکھنا چاہتے تھے جبکہ پاکستان نے غیر متوقع طور پر ایک اہم سفارتی کردار حاصل کرلیا۔
مذاکرات کی جانب دوبارہ پیش رفت ہورہی ہے لیکن ابھی کوئی حتمی سمجھوتا نہیں ہوا۔ 28 فروری کو جس مشرقِ وسطیٰ نے اس تنازع میں قدم رکھا تھا، وہ یکسر بدل چکا ہے۔ اب جو نیا علاقائی نظام تشکیل پائے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ موجودہ سفارتی موقع برقرار رہتا ہے یا کوئی اور غلط اندازہ خطے کو دوبارہ جنگ کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
