وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں گزشتہ روز لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے،افسوسناک واقعے کے بعد حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے ہوگئے مگر پمز اسپتال میں حفاظتی معاملات پر سوالات اٹھنے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔
جیونیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں انکشاف کیا گیا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل 6 جولائی کو اسپتال کے نرسنگ ہاسٹل کے استقبالیہ حصے میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق آگ طالبات تک پھیل گئی تھی، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ کچھ فرنیچر کو نقصان پہنچا تھا۔
حکومت اورانتظامیہ کی سنگین غفلت اورنااہلی ،پمز اسپتال میں 14 نومولودبچےجھلس کراوردم گھٹنےسےزندگی کی بازی ہارگئے۔نہ فائرسیفٹی انتظامات موجود تھے ،نہ ایمرجنسی ایگزیٹس کھلےتھے۔ماضی میں بھی پمز میں غفلت کےسنگین واقعات رپورٹ ہوچکےہیں۔تفصیلات دیکھیے pic.twitter.com/4IL1qD9zWy
— Shahzeb Khanzada (@shazbkhanzdaGEO) August 26, 2026
اس واقعے کے بعد بھی پمز اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات پر سنجیدہ تحفظات سامنے آئے تھے اور پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے خود اس واقعے کی انکوائری کی تھی۔
اس سے قبل جون 2023 میں بھی پمز اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں شدید گرمی اور گھٹن کے باعث کم از کم 4 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ اس وقت وارڈ کا ایئر کنڈیشننگ سسٹم کام نہیں کررہا تھا اور شدید گرمی کے باعث مریضوں کی حالت مزید خراب ہونے کی اطلاعات تھیں۔
پمز اسپتال کے حفاظتی انتظامات کا معاملہ حالیہ دنوں میں بھی زیر بحث رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے میں پمز کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سی ٹی اسکین اور انجیوگرافی مشین کے کام نہ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس پر وزیراعظم کی جانب سے نوٹس لیا گیا اور انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔
پمز اسپتال میں صبح سویرے آتشزدگی
گزشتہ روز صبح تقریباً ساڑھے 6 بجے پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر کے بچوں کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، واقعے میں 14 بچے جاں بحق ہوگئے ،حکومت کے مطابق جاں بحق بچوں کی میتیں ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں۔ واقعے کے بعد بچوں کے والدین، خصوصاً ماؤں میں شدید صدمے اور غم کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
پمز اسپتال انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق وارڈ میں انکیوبیٹرز میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث آگ لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگ سے پیدا ہونے والا دھواں پائپ کے ذریعے بچوں کی سانس تک پہنچا، جبکہ بچوں کی اموات آکسیجن کی کمی اور سوجن کے باعث ہوئیں۔
فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق صبح 6 بج کر 54 منٹ پر پمز اسپتال سے آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 7 بج کر ایک منٹ پر ریسکیو وین اور ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جبکہ 7 بج کر 25 منٹ پر ایک اور ریسکیو ایمبولینس بھی موقع پر پہنچی۔سی ڈی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات ناکافی تھے اور مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کی نرسری وارڈ کے ایمرجنسی اخراجی راستے مستقل طور پر بند یا باہر سے لاک کیے گئے تھے۔ اسپتال کی سکیورٹی کے باعث فائر فائٹرز کے ابتدائی ردعمل میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی، جبکہ جائے وقوعہ پر ہجوم کو منظم کرنے کے لیے بھی مناسب انتظامات موجود نہیں تھے۔
فائر پوائنٹ پر پانی کی عدم دستیابی اور فائر ہوزز پر کپلنگ نہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ آگ لگنے کی ممکنہ وجوہات میں بجلی کا شارٹ سرکٹ یا پلگ کا اوور لوڈ ہونا بھی شامل ہے۔
والدین اور عینی شاہدین کے شکوے
واقعے کے بعد بچوں کے والدین نے اسپتال کے انتظامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نرسری وارڈ میں نہ ڈاکٹر موجود تھا اور نہ ہی نرس۔
ایک والد نے بتایا کہ انہیں اپنے بچوں کے بارے میں معلومات نہیں دی جارہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فائر سیفٹی کا مناسب انتظام موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ کے دروازے بھی بند تھے اور صرف ایک دروازہ کھلا رکھا گیا تھا۔
ایک عینی شاہد خاتون نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ آگ کی اطلاع ملنے پر وہ وارڈ میں گئیں اور اپنی بھانجی کو باہر نکالا۔ ان کے مطابق بچی کے بالوں اور ان کے کندھے کے پیچھے بھی آگ لگی ہوئی تھی۔
عینی شاہد کے مطابق ڈاکٹر نے بھی لوگوں سے اپنی جان بچانے اور وہاں سے نکلنے کا کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ فائر فائٹنگ کے لیے فوری طور پر مناسب انتظامات نظر نہیں آئے اور کھڑکیاں توڑ کر اندر جانے کی کوشش کی گئی۔
پمز انتظامیہ کا مؤقف
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ اسپتال میں تمام حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور متعلقہ افسر بھی موقع پر موجود تھا۔
ایمرجنسی راستے بند رکھنے کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ان راستوں کو محدود داخلے کے باعث بند رکھا گیا تھا۔ انتظامیہ نے بچوں کے اغوا کے واقعات اور محدود داخلے کی ضرورت کا بھی ذکر کیا۔
تاہم سوال اٹھایا گیا کہ اگر ایمرجنسی اخراجی راستے باہر سے بند یا لاک ہوں تو کسی ہنگامی صورتحال میں مریضوں اور نومولود بچوں کو فوری طور پر کیسے باہر نکالا جائے گا۔
اب اسلام آباد کے پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی اخراجی راستوں اور آفات سے نمٹنے کے انتظامات سے متعلق سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔



