اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہر ریلیف اسکیم میں بے انتہا کرپشن ہوتی ہے، سبسڈی اسکیم کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جاتیں تو بہتر ہوتا۔
ہم نیوز کے پروگرام کوئسچن آور میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پرامن احتجاج کی اجازت ہر کسی کو حاصل ہے، تاہم شہریوں کی زندگی متاثر کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کے لیے انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہے لیکن پورے اسلام آباد میں کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں، عوام کو تکلیف حکومت کے رویے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمران کنٹینرز کے پیچھے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں، حکومت جتنا کم کام کرے ملک کا اتنا ہی بھلا ہوتا ہے۔
’ریلیف اسکیم سے 80 فیصد پیسے ضائع ہوجاتے ہیں‘
ریلیف اسکیموں پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ریلیف اسکیم سے 80 فیصد پیسے ضائع ہوجاتے ہیں جبکہ فائدہ صرف 15 سے 20 فیصد لوگوں کو ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سبسڈی اسکیم دینے کے بجائے بہتر تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جاتیں۔
شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا کہ ہر ریلیف اسکیم میں بے انتہا کرپشن ہوتی ہے، ریلیف اسکیم سے ریلیف کم اور کرپشن زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم سے متعلق ایمرجنسی لگائی گئی تو اسکول سے باہر بچوں کی تعداد مزید بڑھ گئی۔ حکومت کو سب سے پہلے اپنے اخراجات میں کمی لانی چاہیے اور معیشت میں بہتری کے لیے اصلاحات لانا ضروری ہے۔
’عوام غریب سے غریب تر ہورہے ہیں، 3 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں‘
سابق وزیراعظم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ عوام غریب سے غریب تر ہورہے ہیں، 3 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ اشیائے خورونوش کی کھپت میں بھی کمی آرہی ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومتی اثاثوں کو ذاتی یا نجی کام کے لیے استعمال کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں، صوبوں کو ملنے والا پیسہ عوام کی بہتری پر خرچ نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے مطابق یہ رقم کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کراچی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں سڑکوں اور صحت کا نظام خراب ہے، جو پیسہ کراچی خود کماتا ہے وہ بھی وہاں خرچ نہیں ہوتا، ان کا کہنا تھا کہ جب لوگوں کو پانی نہیں ملے گا تو وہاں بیماریاں بھی پھیلیں گی۔
’نئے یونٹ بنیں گے تو اختیارات مقامی لوگوں کے پاس ہوں گے‘
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نئے یونٹ بنیں گے تو اختیارات مقامی لوگوں کے پاس ہوں گے اور عوام مقامی نمائندوں سے بازپرس کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بادشاہ ہوں گے تو لوگ ان سے جواب طلب کریں گے۔ ان کے مطابق صوبوں کے پاس صرف پانچ فیصد پیسہ ہونا چاہیے جبکہ باقی رقم مقامی سطح پر خرچ ہونی چاہیے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صحت، تعلیم اور پولیس کا نظام مقامی سطح پر ہونا چاہیے تاکہ اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوں۔
پی ٹی آئی سے متعلق سوال پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر تحریک انصاف آئین اور قانون کی بات کرتی ہے تو اسے پہلے اپنے صوبے میں آئین اور قانون پر عمل کرکے دکھانا ہوگا۔



