کراچی: محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ پرائیویٹ سکیورٹی ایکٹ 2026 پر عملدرآمد نہ کرنے والی 44 نجی سکیورٹی کمپنیوں کے این او سیز منسوخ کردیے۔
سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 44 نجی سکیورٹی کمپنیوں کے این او سیز قانون پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث منسوخ کیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق این او سیز منسوخ کرنے کی وجوہات میں کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید نہ کرانا، زیر استعمال اسلحے کے لائسنس کی تجدید نہ کرانا اور دیگر خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
آل پرائیویٹ سکیورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن نے محکمہ داخلہ سندھ کے اقدام کی حمایت کردی، ایسوسی ایشن کے چیئرمین میجر منیر کے مطابق مختلف وجوہات کی بنا پر مذکورہ سکیورٹی کمپنیوں کے این او سیز منسوخ کیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق جن کمپنیوں کے این او سیز منسوخ کیے گئے ہیں ان میں آرکن سکیورٹی سروسز، ایکسون سکیورٹی سروسز، ایگزیکٹو سکیورٹی، سیف ٹیکنالوجیز، الٹی میٹ سکیورٹی سروسز، فاسٹ سکیورٹی گارڈز، بولان سکیورٹی سروسز اور غزنوی سکیورٹی ایجنسی بھی شامل ہے۔
ایکرو پروٹیکشن سروسز، میگنیٹ سکیورٹی سسٹم، ماورکس سکیورٹی، میرون سکیورٹی، میرٹ سکیورٹی سروسز، ماڈل سکیورٹی سروسز، آسپرے سکیورٹی مینجمنٹ، پاک وطن سکیورٹی، سیکیور فورس، شیرف سکیورٹی، اسٹیل سکیورٹی کمپنی اور لانسرز سکیورٹی سروسز کے این او سیز منسوخ کیے گئے۔
ویلیئنٹ سکیورٹی سروسز، فاکس سکیورٹی سروس، الپائن سکیورٹی سروسز، کیپیٹل ٹیکنو سکیورٹی کمپنی، ڈیف ڈیفیکس، گلوبل رسپانس سروسز، گارڈ مینجمنٹ سروسز، گارڈز مین، ہمایوں ٹرانسپورٹ اینڈ سکیورٹی، حاطف سکیورٹی سسٹم اور انفرا سکیورٹی سروسزکے بھی این او سیز منسوخ کیے گئے۔
لنکس سکیورٹی سروسز، تحفظ مینجمنٹ، وائٹل سکیورٹی، ایم سی بی ایمپلائز سکیورٹی سسٹم اینڈ سروسز، نیشنل آرمر، ایاز سکیورٹی سروسز، سکیورٹی نیٹ ورک، ٹوئنٹی فور سیون سکیورٹی پاکستان، الفتح سکیورٹی سروسز، حیدر سکیورٹی سروسز، الاعوان گارڈز اور بلیک لائن سکیورٹی کنسلٹنٹ بھی ان کمپنیوں میں شامل ہیں جن کے این او سیز منسوخ کیے گئے۔



