پشاور: احتساب عدالت نے کوہستان اسکینڈل کیس میں گرفتار ایک اور ملزم کی نیب کے ساتھ پلی بارگین کی توثیق کردی۔
عدالت نے ملزم کو کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہونے کی صورت میں جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا، احتساب عدالت نے ڈپٹی کمشنرمانسہرہ کو بھی ہدایت کی کہ پلی بارگین کے تحت بطور ضمانت پیش کی گئی جائیداد ضبط رکھیں۔
نیب حکام کے مطابق ملزم نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ 11 کروڑ 70 لاکھ روپے کی پلی بارگین کی، جس کی چیئرمین نیب نے منظوری دی تھی۔
نیب پراسیکیوٹرنے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے کوہستان اسکینڈل میں مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے سرکاری خزانے سے رقم وصول کی تھی۔
نیب حکام کے مطابق ملزم نے پلی بارگین کی رقم میں سے 10 کروڑ 47 لاکھ روپے سے زائد پے آرڈر اور کیش ڈیپازٹ رسید (سی ڈی آر) کے ذریعے جمع کرائے ہیں جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے مانسہرہ میں واقع ایک کنال 18 مرلہ جائیداد بطور ضمانت پیش کی گئی۔
عدالت نے پلی بارگین کی توثیق کرتے ہوئے ملزم کی رہائی سے متعلق بھی حکم جاری کردیا تاہم رہائی کا حکم اس شرط سے مشروط ہے کہ ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔
احتساب عدالت نے ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کو ملزم کی جانب سے بقیہ رقم کی ضمانت کے طور پر پیش کی گئی جائیداد ضبط رکھنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
کیس کی کارروائی کے دوران نیب حکام اور پراسیکیوٹر کی جانب سے پلی بارگین سے متعلق تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کی گئیں، جس کے بعد عدالت نے نیب کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی توثیق کردی۔
کوہستان اسکینڈل کیس میں ایک اور گرفتارملزم کی پلی بارگین کا عمل مکمل ہوگیا اورعدالت نے اسے کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہونے کی صورت میں جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے پشاورہائیکورٹ نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار سرکل افسر اینٹی کرپشن نصیرالدین بابر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پرمشتمل بینچ نے درخواست ضمانت پر سماعت کی، دوران سماعت نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نصیرالدین بابر کو اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر گرفتار کیا گیا، جبکہ ان کے اکاؤنٹ میں 60 ملین روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔
درخواست گزار کے وکلاء نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانزیکشنز کا ان کے مؤکل سے کوئی تعلق نہیں، نیب نے تاحال ریفرنس دائر نہیں کیا، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ضمانت منظور کرلی۔
واضح رہے کہ سرکاری فنڈز کی مبینہ خوردبرد اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے باعث کوہستان میں مبینہ 40 ارب روپے کا مالیاتی اسکینڈل سامنے آیا تھا۔
نیب حکام کے مطابق نیب نے اہم کارروائی کرتے ہوئے متعدد ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارے تھے اس دوران 12 اہم ملزمان سے مجموعی طور پر ایک ارب 59 کروڑ روپے کی خطیر رقم برآمد کی گئی تھی برآمد شدہ اشیا میں پاکستانی کرنسی، امریکی ڈالر اورسونا شامل تھے۔



