وفاقی وزیر پارلیمانی امورطارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ پمزاسپتال نرسری میں آگ لگنے کا واقعہ صبح پونے 7بجے پیش آیا،آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔
پمز اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پمزاسپتال نرسری میں آگ لگنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا،واقعے میں14نومولود بچے جاں بحق ہوئے ،صرف ایک نومولود بچے کوبچایا جا سکا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ 2ڈاکٹرز،2نرسز اورپیرامیڈیکل اسٹاف موجود تھا،وزیراعظم شہبازشریف نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے،آگ آئی سی یو میں بہت تیزی سے پھیلی۔غفلت کے ذمہ داروں کوسزادی جائےگی۔آگ تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے آکسیجن اوراس کی لائنزتھیں۔
طارق فضل چودھری کا مزید کہنا تھا کہ 6نومولود بچوں کی میتیں والدین کےحوالے کردی گئی ہیں۔
انکوائری کمیٹی تشکیل
واقعے کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں8رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ، کمیٹی میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز،ایس پی سی ٹی اسلام آباداوراسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریاشامل ہیں ۔
انکوائری کمیٹی میں ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے ،آئیسکواورپمزکانمائندہ بھی شامل ہے، انکوائری کمیٹی کے ٹی اوآرزجاری کردیے گئے،24گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی گئی۔
کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات کاتعین اورسیفٹی انتظامات کاجائزہ لے گی، کمیٹی ریسکیو رسپانس ٹائم اور فائرفائٹنگ آپریشن کاجائزہ بھی لےگی۔



