اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نیونیٹل وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں موجود 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔
آگ پمز اسپتال کی تیسری منزل پر واقعہ نیونیٹل وارڈ (نومولود کی انتہائی نگہداشت کا شعبہ) میں صبح 6 بج کر 54 منٹ پر لگی۔

ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ پمز نرسری میں لگی آگ بجھا لی گئی، ضلعی انتظامیہ کے مطابق فائر فائٹرز اور 6 ایمبولینسز نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور خواتین سمیت 19 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے پمز اسپتال پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ آئی جی اسلام آباد نے چیف کمشنر کو امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ کمپریسر پھٹنے کی وجہ سے لگی۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز عمران سکندر کے مطابق واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی اور وارڈ میں آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے۔
انکوائری کے لیے 8 رکنی کمیٹی قائم، 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب
پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
کمیٹی میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایس پی سی ٹی اسلام آباد، اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا، ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز کے نمائندے شامل ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انکوائری کمیٹی کے ٹی او آرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں اور کمیٹی سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
کمیٹی آتشزدگی کی وجوہات کا تعین کرنے کے ساتھ اسپتال میں موجود سیفٹی انتظامات کا جائزہ لے گی۔ انکوائری کمیٹی ریسکیو رسپانس ٹائم اور فائر فائٹنگ آپریشن کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔
View this post on Instagram
پمز انتظامیہ نے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی، 48 گھنٹے میں رپورٹ طلب
پمز انتظامیہ نے نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کمیٹی کی سربراہی پروفیسر عمر فاروق کریں گے جبکہ دیگر ارکان میں ڈاکٹر انیزہ جلیل، ڈاکٹر مطاہر شاہ، ڈاکٹر سعدیہ نثار اور ڈاکٹر شرجیل ظہیر شامل ہیں۔
پمز انتظامیہ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی واقعے سے متعلق دستیاب شواہد کا جائزہ لے گی اور 48 گھنٹے کے اندر اپنی رپورٹ تیار کرکے پیش کرے گی۔
کمیٹی واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات بھی پیش کرے گی، جن کی روشنی میں آئندہ کے لیے ضروری اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔
View this post on Instagram
سی ڈی اے رپورٹ میں فائر سیفٹی انتظامات ناکافی، ایمرجنسی راستے بند ہونے کا انکشاف
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے متعلق ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پمز اسپتال کے چلڈرن نرسری وارڈ میں آگ کی اطلاع 26 اگست کو صبح 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی جبکہ فائر اینڈ ریسکیو ٹیمیں 6 منٹ میں موقع پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی طور پر نرسری سے شدید دھواں اٹھنے کی اطلاع دی گئی۔
سی ڈی اے رپورٹ میں آتشزدگی کی ممکنہ وجہ برقی شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈ قرار دی گئی ہے تاہم حتمی وجہ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی۔

سی ڈی اے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نرسری میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھے، ایمرجنسی ایگزٹس اور راستے باہر سے مستقل طور پر بند یا ان کے سامنے رکاوٹیں موجود تھیں۔
رپورٹ کے مطابق اسپتال کے سکیورٹی عملے نے فائر فائٹنگ عملے کی ابتدائی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی جبکہ جائے وقوعہ پر مناسب کروڈ مینجمنٹ بھی موجود نہیں تھی۔
View this post on Instagram
رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر 19 افراد کو نکالا گیا، جن میں 7 بچے زندہ اور 7 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ 10 خواتین اور 2 مرد بھی شامل تھے۔
سی ڈی اے کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فائر آپریشنز تشفین زمان آفریدی کی جانب سے مرتب کی گئی ہے۔
وزیراعظم کا اظہارِ افسوس، فوری تحقیقات کا حکم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ اس طرح کا واقعہ ناقابلِ تلافی ہے، واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اسلام آباد : 26 اگست 2026.
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوناک واقعہ میں 14 نومولود جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور دِلی افسوس کا اظہار کیا. وزیراعظم نے معصوم بچوں کے لواحقین سے دلی اظہار تعزیت کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آتشزدگی کے افسوسناک…
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) August 26, 2026
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اندوہناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے، حکومت غمزدہ والدین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق بچوں کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
وزیراعظم نے اس بارے میں ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں انہوں وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
صدر، وفاقی و صوبائی وزرائے اعلیٰ کا اظہارِ افسوس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جاں بحق بچوں کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پمز نرسری میں آگ لگنے کا دلخراش واقعہ پیش آیا، غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ہدایت کی کہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ صدر مملکت نے ملک بھر کے اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پمز نرسری میں بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیا۔ انہوں نے اسپتالوں میں فائر سیفٹی آلات کی موجودگی اور ان کی فعالیت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو اسپتالوں کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی پمز اسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نرسری میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ مراد علی شاہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔
اسپتال میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، طارق فضل چوہدری
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پمز اسپتال کا دورہ کیا اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، گیس لائن اور پلاسٹک کے آلات کی وجہ سے آگ پھیلی۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی زیادہ اموات دم گھٹنے سے ہوئیں، آکسیجن سپلائی کی وجہ سے بھی آگ پھیلی۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ واقعے کے وقت ڈاکٹرز، نرس اور عملہ موجود تھا وہ سب واقعے میں محفوظ رہے، واقعے میں کسی کی غفلت ہوئی تو اسے سامنے لائیں گے۔
پمز آتشزدگی میں 14 معصوم بچوں کی ہلاکت پر دل گرفتہ ہوں، نواز شریف
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں 14 معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ 14 معصوم بچوں کی آتشزدگی کے المناک واقعے میں جانوں کے ضیاع کی خبر سن کر دل انتہائی رنجیدہ ہے۔ انہوں نے غمزدہ والدین کے دکھ میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا۔
پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے سانحے میں 14 معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر سن کر دل رنجیدہ ہے۔ میں غمزدہ والدین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ حکومت کو ذمہ داروں کا تعین کر کے سخت کارروائی کرنی چاہئے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو…
— Nawaz Sharif (@NawazSharifMNS) August 26, 2026
نواز شریف نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ خاندانوں کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
بلاول بھٹو کا غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے پمز اسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی المناک ہلاکت پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پمز اسپتال میں معصوم جانوں کا یہ نقصان پوری قوم کے لیے ناقابلِ برداشت سانحہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معصوم بچے محض اعداد نہیں تھے بلکہ غمزدہ خاندانوں کی امیدیں، خواب اور دعائیں تھے، نومولود بچے کی جدائی ایسا زخم ہے جس کا مداوا کوئی لفظ نہیں کر سکتا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور قوم کو بتایا جائے کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں ایسا المناک سانحہ کیسے پیش آیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غفلت یا کمزور مریضوں کی حفاظت یقینی بنانے میں ناکامی کے ذمہ دار افراد کا احتساب کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ اپنے زیرانتظام تمام سرکاری اسپتالوں میں مریضوں اور طبی عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
