وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پمزنرسری میں آتشزدگی کاواقعہ افسوسناک ہے، تحقیقات جاری ہیں۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پمز وارڈ میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے ، چھٹی کے باوجود پمز میں عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا، پمزنرسری میں آگ لگنے کے بعد بجلی چلی گئی تھی۔
متعلقہ حکام والدین کےساتھ رابطے میں ہیں، ڈی جی ہیلتھ اورسیکریٹری پمز میں موجودہیں، ایگزیکٹیوڈائریکٹر پمز بھی مجھ سے رابطے میں ہیں، میں خود بھی کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہاہوں۔
انکوائری کمیٹی تشکیل
واقعے کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں8رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ، کمیٹی میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز،ایس پی سی ٹی اسلام آباداوراسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریاشامل ہیں ۔
انکوائری کمیٹی میں ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے ،آئیسکواورپمزکانمائندہ بھی شامل ہے، انکوائری کمیٹی کے ٹی اوآرزجاری کردیے گئے،24گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی گئی۔
کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات کاتعین اورسیفٹی انتظامات کاجائزہ لے گی، کمیٹی ریسکیو رسپانس ٹائم اور فائرفائٹنگ آپریشن کاجائزہ بھی لےگی۔
امدادی سرگرمیاں
آئی جی اسلام آباد علی ناصررضوی نے چیف کمشنرسہیل اشرف کوامدادی سرگرمیوں پربریفنگ دی ، ای ڈی پمز عمران سکندر کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی،وارڈ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اس کا تعین کیاجا رہا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق فائر فائٹرز اور 6 ایمبولینسز نے آپریشن میں حصہ لیا۔



