وزیر اعظم شہبازشریف نے سانحہ پمز پروفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر کے انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ افسران پر اظہاربرہمی کیا، وزیراعظم نے اعلیٰ سطح تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی،سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے،سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر نبیل اعوان تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ہونگے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہبازشریف نے وفاقی وزیرصحت کو فوری اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی ہے ۔وزیر اعظم نے مزید ہدایت دی ہے کہ وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال پمزاسپتال جا کر صورتحال کا جائرہ لیں اور رپورٹ پیش کریں ۔وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر صحت کچھ دیر میں کراچی سے روانہ ہوں گے۔
سیکریٹری ہیلتھ اسلم غوری نے کیا کہا؟
سیکریٹری ہیلتھ اسلم غوری کا کہنا ہے کہ پہلے اپنے طور پرآگ بجھانے کی کوشش کی پھرفائربریگیڈ کو آگاہ کیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پمزاسپتال نرسری میں 15نومولود بچے موجودتھے ،14جاں بحق ہوئے،جاں بحق 14بچوں میں سے 11کی شناخت ہوچکی ہے۔
آگ لگنے کے بعد نرسری وارڈ کی چھت کی سیلنگ گرنے لگی ،نرسری وارڈ کی چھت کی سیلنگ کی وجہ سے بچوں کوبچانے میں مشکل ہوئی،آگ نے پوری نرسری کولپیٹ میں لےلیاتھا۔
وفاقی وزیر صحت کا کیا کہنا ہے؟
وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ چھٹی کے باوجود پمز میں عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا، پمزنرسری میں آگ لگنے کے بعد بجلی چلی گئی تھی۔
متعلقہ حکام والدین کےساتھ رابطے میں ہیں، ڈی جی ہیلتھ اورسیکریٹری پمز میں موجودہیں، ایگزیکٹیوڈائریکٹر پمز بھی مجھ سے رابطے میں ہیں، میں خود بھی کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہاہوں۔
والدین کا ردعمل
دوسری جانب والدین نے الزام لگایا کہ ہم ہتھوڑوں سے شیشے توڑ کر وارڈ کے اندر داخل ہوئے ،تمام عملہ بھاگ گیا تھا۔ہمیں صرف یہ بتایا گیا کہ بچے جاں بحق ہو گئے ہیں، یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا، ہمارے بچے غائب کیے گئے، ہم میں سے کسی نے بچے کے کپڑے بھی نہیں دیکھے، ہمیں یقین آنا چاہیے کہ ہمارے بچے جھلس کر ہی مرے ہیں۔
ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ ایک گھنٹے تک کوئی بھی ڈاکٹر یا عملہ نہیں آیا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آگ لگے تو کسی اور وارڈ میں کسی ایک بھی شخص کو خراش تک نہیں آئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ بچے لواحقین کے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔



