یمن کے قریب جہاز پر حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کی میتیں کراچی پہنچ گئیں۔ جس کے بعد ان کی میتیں ان کے اہلخانہ کے حوالے کر دی گئیں۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حوثی حملے میں جاں بحق 2 پاکستانی ملاحوں کی میتیں وطن پہنچا دی گئی ہیں جبکہ تنزانیہ کے پرچم بردار بحری جہاز پرحوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح بھی پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
اسحاق ڈار نے ایک بیان میں کہا کہ میتوں کی واپسی کیلئے ریاض میں پاکستانی سفارتخانے اور جدہ میں قونصل جنرل کی کوششیں قابل تعریف ہیں، ایف آئی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کی کوششوں کو بھی سراہتا ہوں۔ تمام اداروں نے ملاحوں کی واپسی کے لیے انتظامات مؤثر بنانے میں تعاون کیا۔
The six Pakistani sailors injured in the recent Houthi attack on a Tanzanian-flagged commercial vessel have safely returned to Pakistan, while the mortal remains of the two Pakistani sailors who tragically lost their lives have also been repatriated.
All relevant stakeholders…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) August 20, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بحری جہاز پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کرتا ہے، سمندری کارکنوں کی سلامتی کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
علاوہ ازیں کیپٹن علی اضغرخان نے بتایا کہ جہاز حملے میں شہید ہونے والوں میں عمیر افضل جہاز کے کپتان اور عملے کے محمد اکرم شامل تھے۔ جہاز کا عملہ یمن میں جہاز تہامہ میں فرائض انجام دے رہا تھا۔ حملے میں جہاز پر لوڈ سامان جل گیا تھا۔ شہید دونوں افراد لانڈھی کے رہائشی تھے۔
چیف ایگزیکٹو سی کئیر پاکستان پرائیوٹ لیمیٹڈ کے مطابق دونوں افراد 11 اگست کے حملے میں شہید ہوئے۔ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے نے ان کی میتیں لانے میں مدد کی۔
ایرانی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش، امریکی فوج کا پاناما کے پرچم بردار جہاز پر حملہ
واضح رہے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے داخلی راستے آبنائے باب المندب کے قریب مال بردار بحری جہاز پر کیے گئے حملوں میں پاکستانیوں سمیت کم از کم چھ افراد جان سے چلے گئے تھے۔
یمن کے کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کارگو جہاز کے عملے کے 4 ارکان بھی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق جہاز پر امدادی اور انخلا کی کارروائیاں کرنے کے لیے بھیجے گئے دستے کے 2 اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
یہ حملے بحیرہ احمر کے دہانے پر تجارتی جہازوں کے خلاف ان مہلک کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں جو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے جاری ہیں۔
