پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کی نئی لہر میں روزانہ پختون بھائی شہید ہو رہے ہیں، ہم مزید جنازے نہیں اٹھا سکتے اور مزید خون بہتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، اس لیے دہشتگردی کے خلاف پالیسی میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے ویڈیو پیغام میں دھماکے میں نوجوانوں اور شہریوں کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، گزشتہ کئی برس سے خیبرپختونخوا دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ 22 سال سے ایک پالیسی مسلسل نافذ ہے لیکن خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب دہشتگردوں کی آبادکاری کی پالیسی بنائی جا رہی تھی تو انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی، ہمیں معلوم تھا کہ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر لاشیں اٹھانا پڑیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ان کا نقصان صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے پاکستان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
فوج، پولیس اور عام شہری قربانیاں دے رہے ہیں
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے ڈی آئی خان میں خودکش حملے کی مذمت کردی
بند کمروں کے فیصلوں کی ہم مخالفت اسلیے کرتے ہیں کیونکہ اس سے نقصان ہوتا ہے، ہم 22 سالوں دیکھتے آرہے ہیں کہ ہمارے لوگ مر رہے ہیں، یہ انکی ناکام پالیسی ہے، سہیل آفریدی pic.twitter.com/bcPe6UBVDk
— Kamran Ali (@akamran111) September 26, 2026
انہوں نے کہا کہ ہمارے پولیس جوان، فوجی جوان اور عام شہری سب ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ شہید ہونے والے ہر شخص کسی کا بیٹا، بھائی یا باپ ہے، جبکہ ہماری مائیں اور بہنیں بھی دہشتگردی کا نشانہ بن رہی ہیں۔
سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک یہ خون بہتا رہے گا اور کب تک قوم جنازے اٹھاتی رہے گی؟
پولیس کے لیے 35 ارب روپے اضافی فراہم کیے، وزیراعلیٰ
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت امن کے لیے اپنے طور پر ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔
ان کے مطابق مالی سال 2025-26 میں صوبائی حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر پولیس کے لیے بجٹ سے ہٹ کر 35 ارب روپے فراہم کیے۔
پولیس کو جدید اسلحہ، ضروری آلات اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے بھی اضافی وسائل دیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وفاقی اداروں کو ادائیگیاں ہوچکی ہیں، لیکن خیبرپختونخوا پولیس کو تاحال مطلوبہ آلات اور اے پی سیز فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر جنگ لڑ رہی ہے، اس لیے پولیس کے لیے مطلوبہ سامان کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں خیبرپختونخوا پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کردیا گیا ہے، جو ان کے مطابق 103 فیصد اضافہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کی استعداد کار بڑھانے اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے وسائل فراہم کرنے پر توجہ دی ہے۔
صوبائی ایکشن پلان وفاق کو دیا، 100 دن میں امن لانے کی صلاحیت کا اظہار کیا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی ایکشن پلان وفاق کو دیا اور 100 دن میں امن لانے کی صلاحیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 22 سال میں 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے باوجود خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا، اس لیے موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خبردار کیا کہ اگر دہشتگردی کی آگ کو نہ روکا گیا تو یہ صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا پاکستان اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے مفاد میں سنجیدہ فیصلے کرنا ہوں گے، اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور پائیدار امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
وفاقی وزراء کے بیانات پر وزیراعلیٰ کا ردعمل
سہیل آفریدی نے وفاقی وزراء کے بعض بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات ملک میں نفرتیں اور انتشار پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بارے میں وفاقی وزراء کی نامناسب گفتگو قابل افسوس ہے۔ اگر کوئی وفاقی وزیر خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشتگرد قرار دے تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔
ان کے مطابق ایسے بیانات پاکستان کو تقسیم کرنے اور صوبوں کے درمیان نفرت بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن لوگوں نے وفاقی وزراء کو مسلط کیا ہے، انہیں اپنے وزراء کو ذمہ دارانہ گفتگو کی ہدایت کرنی چاہیے۔
شہدا کے پاس خود جاتا ہوں، جو عوام میں نہیں جاتے وہ ہمیں درس نہ دیں
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ کے پاس خود جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”میں کبھی بنوں میں اپنے شہداء کے پاس جا رہا ہوں، کبھی کوہاٹ، کبھی دیر اور کبھی سوات جا رہا ہوں۔”
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو لوگ عوام کے درمیان نہیں جاتے، وہ انہیں عوامی محبت کا درس نہ دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اداروں کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں، وہ انہیں اداروں سے محبت کا درس نہ دیں، جبکہ جنہوں نے سپریم کورٹ پر چڑھائی کی وہ بھی انہیں اداروں کے احترام کا درس نہ دیں۔
عمران خان اور پی ٹی آئی کا مؤقف واضح ہے، وزیراعلیٰ
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ فوج ہماری ہے، ملک ہمارا ہے، پولیس ہماری ہے اور عوام بھی ہمارے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تنقید بند کمروں میں بنائی جانے والی ان پالیسیوں پر ہے جو ان کے بقول خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
4 اکتوبر کو پرامن احتجاج کا اعلان
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشتگردی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، ایسے حالات میں حکمرانوں کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
4 اکتوبر کو انشاءاللہ عوام کا سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہمارے کارکن پُرامن لانگ مارچ کے لیے بیتاب ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں 24 گھنٹے کی ڈیدلائن سے ہمارے لاکھوں کارکن سڑکوں پر ہونگے۔ انشاءاللہ۔
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) September 26, 2026
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا نوجوان اور کارکن باشعور ہے اور 9 مئی کے بعد بھی پی ٹی آئی کارکن ہر اشتعال انگیزی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کا لانگ مارچ پرامن تھا، پرامن ہے اور پرامن رہے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 4 اکتوبر کو پاکستان کے عوام پرامن طریقے سے اپنا حق استعمال کریں گے اور پرامن احتجاج آئینی و قانونی حق ہے۔



