کراچی: عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد امریکی فلکی طبیعات دان ڈاکٹر نرگس ماولوالا نے کہا کہ جامعات کی ذمہ دای صرف ماہرین تیار کرنا نہیں بلکہ طلبا میں تجسس، تخلیقی صلاحیت، ثابت قدمی اور فکری آزادی کو فروغ دینا بھی ہے۔
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کی اسکول آف سائنس کی ڈین اور نوبیل انعام یافتہ ایل آئی جی او (LIGO) تعاون کی نمایاں رکن ڈاکٹر نرگس ماولوالا نے حبیب یونیورسٹی میں دسویں یوحسن لیکچر سے خطاب کیا۔
ڈاکٹر نرگس ماولوالا کے لیکچر کا موضوع ’’دریافت کی خوشی: تجسس، سائنس اور جامعات کا فیصلہ کن کردار‘‘ تھا، جس میں طلبا، اساتذہ، جامعات سے وابستہ افراد، سائنسدانوں، صنعت کاروں اور عام شہریوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
حبیب یونیورسٹی کے مطابق ڈاکٹر نرگس ماولوالا کو سننے کے لیے تقریباً 4 سے 5 ہزار افراد یونیورسٹی پہنچے، جس کے باعث کیمپس میں طویل قطاریں لگ گئیں اور مختلف مقامات پر لوگوں نے لیکچر سنا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر نرگس ماولوالا نے سوال اٹھایا کہ انسان آخر علم کی تلاش کیوں کرتا ہے، خصوصاً ایسا علم جس کا فوری عملی فائدہ واضح نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ کی کئی اہم دریافتیں ایسے سوالات سے شروع ہوئیں جن کا بظاہر کوئی فوری فائدہ نہیں تھا۔ جامعات کی ذمہ داری صرف ماہرین تیار کرنا نہیں بلکہ طلبا میں تجسس، تخلیقی صلاحیت، ثابت قدمی اور فکری آزادی کو فروغ دینا بھی ہے۔
ڈاکٹر نرگس ماولوالا نے کہا کہ ہر انسان پیدائش کے وقت تحقیق کا جذبہ رکھتا ہے، تاہم بالغ زندگی میں تحقیق جاری رکھنے کے لیے مواقع تک رسائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق حکومتوں کی جانب سے تحقیق اور سائنس میں سرمایہ کاری سب سے زیادہ منافع دینے والی سرمایہ کاریوں میں شامل ہے۔
حبیب یونیورسٹی کے صدر واصف رضوی نے کہا کہ ڈاکٹر نرگس ماولوالا کی موجودگی اور عوام کی بڑی تعداد میں شرکت یونیورسٹی کے لیے اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخیر افراد کے تعاون سے پاکستان میں معیاری تعلیم تک رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر نرگس ماولوالا نے اپنے دو روزہ دورے کے دوران حبیب یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ اور سابق طلبہ سے ملاقاتیں کیں جبکہ کراچی کی سائنسی برادری اور کاروباری شخصیات کے ساتھ بھی مختلف نشستوں میں شرکت کی۔

یونیورسٹی کے مطابق دسویں یوحسن لیکچر سیریز کی تاریخ کے سب سے زیادہ شرکا والے پروگراموں میں شامل رہا۔ یوحسن لیکچر سیریز کے ذریعے حبیب یونیورسٹی دنیا کے ممتاز مفکرین اور ماہرین کو پاکستان میں عوام اور طلبہ کے ساتھ براہِ راست مکالمے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
ڈاکٹر نرگس والوالا کون ہیں؟
ڈاکٹر نرگس ماولوالا ایک عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد امریکی فلکیات دان ہیں جو کائنات میں ثقلی امواج کی پہلی براہ راست دریافت میں اپنے کلیدی کردار اور تحقیق کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ وہ دنیا کے معروف تعلیمی ادارے میساجوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اسکول آف سائس کی پہلی خاتون ڈین بھی ہیں۔
ڈاکٹر نرگس ماولوالا 1968 میں لاہور کے ایک پارسی گھرانے میں پیدا ہوئیں اور اور ان کی پرورش کراچی میں ہوئی۔ انہوں نے کراچی کے مشہور اسکول کانونٹ آف جیسس اینڈ میری سے او اور اے لیول کی تعلیم حاصل کی۔
وہ 1986 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا چلی گئیں۔ جہاں انہوں نے ویلسلے کالج سے فزکس اور آسٹرانومی میں بیچلرز کیا اور بعد میں ایم آئی ٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔


