ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات پر اعتماد نہیں رہا، کیونکہ ماضی میں مذاکرات کے بعد ایران پر حملے اور پابندیاں عائد کی گئیں۔
الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے نئی تجویز پیش کردی ہے اور اب وہ امریکا کے جواب کا منتظر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکی فریق پر اعتماد نہیں اور یہ واضح نہیں کہ امریکا کے ساتھ کس بنیاد پر کسی مفاہمت تک پہنچا جاسکتا ہے۔
ایرانی صدر اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رواں ہفتے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق منصوبے کے ابتدائی اقدامات چار سے پانچ روز میں مکمل ہوں گے، چھٹے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا جبکہ ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت باہمی طور پر طے شدہ امور پر حتمی معاہدے کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔
تہران کی تجویز کے مطابق امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی کرے گا، منجمد ایرانی اثاثوں میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر جاری کرے گا اور خطے میں جنگ بندی پر عمل کرے گا، جس میں لبنان اور یمن بھی شامل ہوں گے۔
اس کے بدلے میں ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی آمدورفت کے لیے کھولے گا، جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس اسی آبی راستے سے گزرتا تھا۔
’قطر اور پاکستان امریکا تک ایران کا پیغام پہنچا رہے ہیں، ایرانی صدر‘
مسعود پزشکیان نے بتایا کہ قطر اور پاکستان ثالثی کے ذریعے ایران کے پیغامات امریکا تک پہنچا رہے ہیں۔
ایرانی صدر کے مطابق مذاکرات کی بنیاد جون میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت ہے، جو گزشتہ ماہ غیر مؤثر ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو اس معاہدے کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے ایرانی صدر نے ایران کو اس کا ذمہ دار قرار دینے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کے سامنے راستے بند کیے، جس کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش ان کے بقول ایک ’’قدرتی ردعمل‘‘ ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ بحران کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے اور اگر مذاکرات کے نتیجے میں جنگ ختم ہوجاتی ہے تو آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
’ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا، پزشکیان کا دعویٰ‘
ایرانی صدر نے امریکا کو جنگ کا جارح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے گزشتہ 200 برس میں کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے یہ سمجھتے ہوئے خطے کے دیگر ممالک کو جنگ میں گھسیٹا کہ ایرانی نظام چند روز میں ختم ہوجائے گا، تاہم ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کیا اور آئندہ بھی مزاحمت جاری رکھے گا۔
پزشکیان کے مطابق ایرانی کمانڈر کی ہلاکت اور معاشی دباؤ بھی ایرانی عوام کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے خطے کے اسلامی ممالک کی فضائی حدود سے ایران پر حملے کیے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں ان امریکی اڈوں کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قانون سے باہر کچھ نہیں چاہتا اور اس کا ردعمل ان کے بقول صرف ان اقدامات کے جواب میں ہوتا ہے جن سے قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
ایرانی صدر نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں سے بھی جوڑا۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ایرانیوں کو ادویات اور خام مال سے محروم کرتے ہیں، وہی لوگ غزہ میں خوراک اور پانی کی رسد روکنے کے ذمہ دار ہیں۔
پزشکیان نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پابندیوں کے ذریعے ایرانی عوام کو دباؤ میں لایا جاسکتا ہے، انہوں نے صورتحال کا غلط اندازہ لگایا ہے۔
’خطے میں کسی ’’پولیس مین‘‘ کی ضرورت نہیں، ایرانی صدر‘
مسعود پزشکیان نے کہا کہ خطے میں سیکیورٹی کا نظام علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے قائم کیا جاسکتا ہے اور خطے کو کسی بیرونی طاقت کے ’’پولیس مین‘‘ کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرکے خطے کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایرانی صدر نے سعودی عرب کو اسلامی دنیا کو متحد کرنے میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ملک قرار دیا۔ یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ حوثیوں کے اقدامات ایران سے منسلک نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہر اس شخص کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے جس کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہو۔ایرانی صدر نے حوثیوں اور سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایک بھائی کو دوسرے بھائی سے نہیں لڑنا چاہیے‘‘ اور ایران اس تنازع کے خاتمے میں مدد کے لیے تیار ہے۔



