ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی نام نہاد ’اکنامک ڈی ڈے‘ پالیسی دراصل امریکا کے اپنے بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ناکام پالیسیوں کو سخت کرنے سے امریکا کو مزید شکست اور ایرانی عوام کی مزید مخالفت کا سامنا ہو گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی معاشی اقدامات عالمی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہیں۔
The so-called “Economic D-Day” is a diversion from America’s own crisis: unprecedented debt & surging interest costs.
Doubling down on failed policies will only bring further defeat—and enmity of Iranians. US economic terrorism threatens global economy and sovereignty worldwide pic.twitter.com/Qj5SzVBjvX
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) August 20, 2026
واضح رہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد یا سہارا فراہم کرنے والے ممالک کو سنگین معاشی نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ممالک کیخلاف غیر معمولی پیمانے پر معاشی جنگ اور تنہائی کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرے گا، اسے ’’بہت بڑے معاشی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران نے امریکا کا ساتھ دینے والے خلیجی ممالک کو خبردار کر دیا
امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھمکی پر عمل درآمد کی صورت میں واشنگٹن کن مخصوص اقدامات کا سہارا لے گا اور نہ ہی کسی ملک کا نام لیا۔ ان کے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ان ممالک کو بھی امریکی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے جو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
