یران کی مسلح افواج نے خلیج فارس سے متصل ممالک کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کو کسی بھی قسم کی فوجی مدد یا سہولت فراہم کرنا امریکی فوجی کارروائیوں میں براہِ راست شرکت کے مترادف سمجھا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے کہا کہ امریکی فوج کو فراہم کی جانے والی کوئی بھی مدد یا سہولت امریکی فوجی کارروائی میں شرکت تصور کی جائے گی۔
علی عبداللہی نے کہا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجی طیارے، بالخصوص فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے، امریکی فوجی اڈوں پر موجود ہوں اور میزبان ممالک کو اس کا علم نہ ہو۔
انہوں نے خلیج فارس کے ساحلی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان میں سے کئی ممالک مختلف بیانات میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، تاہم انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ “ہمیں ساری صورتحال کا مکمل علم ہے”۔
ایران کی اس وارننگ کے ساتھ ہی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جارج واشنگٹن’ کی مشرق وسطیٰ میں دوبارہ تعیناتی بھی سامنے آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جارج واشنگٹن کو ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کی جگہ تعینات کیا جا رہا ہے، جس کے عملے کی طویل طعیناتی کے باعث حالت تشویشناک ہو چکی تھی۔
