وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزارت صحت کے ملازمین کیلئے ہیپاٹائٹس ٹیسٹ لازم کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارت صحت کے جو ملازمین ٹیسٹ نہیں کروائیں گے، ان کی تنخواہ بند کی جائے گی، دیگر اداروں کے ملازمین کے ٹیسٹ کیلئے بھی رابطہ کریں گے۔
پاکستان میں ایڈز سے متاثرہ 84 ہزار لوگ رجسٹرڈ ہیں، وفاقی وزیر صحت
یاد رہے عالمی ادارہ صحت نے چند ماہ قبل اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان اُن 10 ممالک میں شامل ہے جہاں اس بیماری سے ہونے والی 58 فیصد اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ تین ہفتے قبل ہیپاٹائٹس کے عالم دن پر رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان ایک کروڑ 29 لاکھ متاثرہ مریضوں کے ساتھ خطے کا سرفہرست ملک بن گیا ہے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس اسکریننگ کے 17 پوائنٹس بنائے گئے ہیں، نجی اسپتالوں کو ہیپاٹائٹس کٹس اور گیجٹس دیئے جائیں گے، نجی اسپتالوں میں بھی ہیپاٹائٹس اسکریننگ کی جائے گی۔
روزانہ 1300 بچے غذائی کمی کے باعث موت کا شکار ہو رہے ہیں، وفاقی وزیر صحت کا انکشاف
انہوں نے مزید کہا کہ وزراء سمیت تمام سرکاری ملازمین کے ہیپاٹائٹس ٹیسٹ لازمی قرار دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ ہیپاٹائیٹس سی کے مریض موجود ہیں۔ یہ خطرناک بیماری ہے اس کا دیر سے پتہ چلتا ہے، یہ بیماری جگر کے کینسر کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔
