اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں روزانہ تقریباً 1300 بچے غذائی کمی کے باعث موت کا شکار ہو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاک فارما ہیلتھ کیئر ایکسپو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ہیلتھ کیئر اور فارماسیوٹیکل صنعت ترقی کر رہی ہے، جبکہ گزشتہ سال فارما انڈسٹری کی برآمدات میں 38 فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فارما انڈسٹری کے ساتھ کھڑی ہے اور کمپنیوں کو مختلف شعبوں میں ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے تعاون کے بغیر صنعتی ترقی ممکن نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) اب تک 85 فیصد ڈیجیٹل ہوچکا ہے اور اداروں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 9 اکتوبر کو پاکستان میں نیا نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت ادویات پر چیک اینڈ بیلنس مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی تقریباً 25 کروڑ آبادی کے لیے صرف 22 ڈرگ انسپکٹرز کام کر رہے ہیں، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔
مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں کئی گنا اضافے کے باوجود پاکستان میں صوبوں کی تعداد چار ہی ہے۔ نئے صوبوں کا قیام ملک کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کرے گا۔
انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کا سہرا فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم کو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کینسر کی 9 ادویات جعلی قرار، سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا انکشاف
انہوں نے مزید کہا کہ بعض انتشار پسند عناصر سوچی سمجھی سازش کے تحت فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے اپنے سے چھ گنا بڑی فوج کو شکست سے دوچار کیا۔
