جکارتہ: انڈونیشیا کے مشرقی حصے میں فلورس جزیرے کے قریب 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق انڈونیشیا میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 38 ہوگئی جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 2 افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں سے کئی گھروں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بعض مقامات پر عمارتیں منہدم ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
A powerful 7.7-magnitude undersea earthquake struck off the northern coast of Indonesia’s Flores Island, triggering tsunami warnings across several coastal provinces. Indonesian meteorological agencies urged residents in impacted areas to evacuate immediately to higher ground and… pic.twitter.com/lcbLMBfpfy
— The Weather Channel (@weatherchannel) August 15, 2026
الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق زلزلہ ہفتے کی صبح مشرقی نوسا تنگارا صوبے کے ساحل کے قریب آیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز شہر اینڈی سے تقریباً 68 کلومیٹر شمال مغرب میں اور زیرِ زمین گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر تھی۔
مشرقی نوسا تنگارا کے گورنر نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں کئی عمارتیں منہدم ہوئیں جبکہ ملبے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رائٹرز کے مطابق انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی نے ابتدائی طور پر ایک ہلاکت اور 4 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی، تاہم صوبائی حکام نے بعد میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی جبکہ تقریباً 2 ہزار افراد نے محفوظ مقامات پر پناہ لی۔
شدید زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی، تاہم تقریباً 3 گھنٹے بعد اسے ختم کردیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق ساحلی علاقوں میں ایک میٹر سے کم بلند لہریں ریکارڈ کی گئیں۔
بلوچستان کے ضلع دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے
زلزلے کے بعد متعدد آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جن میں سے بعض کی شدت 5 سے زیادہ ریکارڈ ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
انڈونیشیا بحرالکاہل کے زلزلہ خیز خطے رِنگ آف فائر میں واقع ہے، جہاں زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں معمول کا حصہ ہیں۔
