کراچی: شہر قائد میں نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی نئی تحقیقاتی ٹیم نے مقتول کو گلستان جوہر پہنچانے والے آن لائن ٹیکسی سروس کے ڈرائیور کو طلب کر لیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کیس کی تحقیقات میں ٹیکسی سروس کے ڈرائیور کا بیان قلمبند کیا جارہا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ نے میر رضا کو 28 جولائی کی علی الصبح شہید ملت روڈ سے گلستان جوہر پہنچایا تھا۔
نئی تحقیقاتی ٹیم کے افسران کو مختلف ٹاسک
دوسری جانب پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم میں شامل افسران کو مختلف ٹاسک سونپ دیئے گئے ہیں۔ کرائم سین سے شواہد جمع کرنے اور ڈیجیٹل ایویڈنس کلیکشن کا ٹاسک ایس ایس پی علی رضا کے سپرد کیا گیا ہے۔
ٹیم میں شامل ڈی ایس پی اور انسپکٹر چوہدری غضنفر کو کرائم سین کے شواہد اور جیوفینسنگ کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ ایس پی قیس خان نوجوان میر رضا کی ڈیجیٹل کرنسی انوسٹمنٹ سے متعلق معاملات کی چھان بین کررہے ہیں۔
این سی سی آئی اے سے رابطوں اور تفتیش کا ٹاسک بھی ایس پی قیس خان کے سپرد کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایس پی ڈاکٹر انعم تجمل میڈیکو لیگل اور فارنزک ایویڈنس سے متعلق شواہد پر کام کر رہی ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم، قبر کشائی اور لیبارٹری رپورٹ سے متعلق اینگل پر انوسٹی گیشن کا ٹاسک بھی انعم تجمل کے سپرد کیا گیا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق نئی تحقیقاتی ٹیم کو بھی سی پی ایل سی کی تکنیکی معاونت حاصل ہے۔ پولیس کی پوری تحقیقاتی ٹیم یا چند ممبران کا آج بھی جائے وقوعہ کا دورہ متوقع ہے۔
پولیس سے کوتاہی ہوئی، آئی جی کا اعتراف
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اعتراف کیا ہے کہ میر رضا علی کیس میں پولیس کے ساتھ میڈیکو لیگل افسر نے بھی کوتاہیاں کیں۔
میڈیا سے گفتگو میں آئی جی سندھ نے کہا کہ پہلے میڈیکو لیگل آفیسر کی جانب سے پولیس کو غلط جانب گائیڈ کیا گیا۔ اب معاملے کی تفتیش کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی واقعے کا ملزم کے پی ہاؤس میں رہتا رہا ، پی ٹی آئی قیادت سے بھی ملتا رہا، طلال چوہدری
انہوں نے کہا کہ میر رضا علی کے والدین سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں اور وہ تفتیش سے مطمئن ہیں۔ اب اس میں جو بھی ملوث ہوگا، پولیس اس کے خلاف ایکشن لے گی۔
میر رضا کیس، کرائم سین یونٹ گلشن ڈویژن کے انچارج معطل
دریں اثنا میر رضا کیس میں کرائم سین یونٹ گلشن ڈویژن کے انچارج کو معطل کردیا گیا۔
حکام کے مطابق لاش ملنے کے مقام سے کرائم سین یونٹ نے مکمل شواہد حاصل نہیں کیے تھے۔ جس روز لاش ملی، کرائم سین یونٹ کا عملہ موقع پر نہیں پہنچ سکا تھا، جبکہ یونٹ کا عملہ اگلے روز جائے وقوعہ پر پہنچا۔
حکام کے مطابق شواہد اکٹھے کرنے میں تاخیر اور کارروائی میں کوتاہی پر کرائم سین یونٹ کے انچارج کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔
