ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم مجوزہ معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان زیرِ غور معاہدے میں امریکی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ بھی شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی تقسیم کا سابقہ نظام تہران کے لیے قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد ورفت کے لیے نئے راستے کی ضرورت ہے۔
BREAKING: Iran's FM Abbas Araghchi says Tehran is “very close to an agreement” with Oman over the Strait of Hormuz, while accusing the US of violating a memorandum of understanding (MoU) previously reached in Pakistan.
🔴 LIVE updates: https://t.co/WMnlo2s2y0 pic.twitter.com/InbM6qyBUj
— Al Jazeera English (@AJEnglish) August 8, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی نئے انتظام کو اپنے مفادات اور خطے کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قبول کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ عمان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق ایک نئے انتظام کی بنیاد فراہم کرسکتا ہے تاہم اس کا مقصد محض آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا نہیں بلکہ جہازوں کی آمد ورفت کے لیے ایک قابل قبول نظام وضع کرنا ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں جاری ہیں جب آبنائے ہرمز خطے میں تجارت، توانائی کی ترسیل اور عالمی بحری آمد ورفت کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ اس نے پاکستان میں پہلے طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (MoU) کی خلاف ورزی کی ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی نئے انتظام میں ایران کے مؤقف اور مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کا اسلامی ممالک کی جانب سے بھرپور خیرمقدم، اہم پیشرفت قرار دے دیا
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تہران خطے میں بحری آمدورفت اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
