کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی کوہاٹ میں درج کرلیا گیا، پولیس کے مطابق ایف آئی آر ایس ایچ او تھانہ سٹی کوہاٹ کی مدعیت میں نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل سمیت متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق مسجد پولیس لائنز پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا، حملے کے بعد دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور شہری شہید و زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے مسجد کو دھماکے سے تباہ کیا اور مسجد کے راستے کو پولیس لائنز میں داخلے کے لیے استعمال کیا۔ دہشت گرد اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے پولیس لائنز کے اندر داخل ہوئے، جس کے بعد پولیس نفری نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
پولیس کے مطابق پاک فوج، پولیس اور سی ٹی ڈی کے افسران آپریشن کی قیادت کے لیے موقع پر پہنچے، خودکش حملے، فائرنگ اور دستی بم حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا جبکہ حملے میں سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
ایف آئی آر کے مطابق حملے میں 21 افراد شہید جبکہ بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے۔
پس منظر
کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں یہ حملہ 18 ستمبر 2026 کو نماز جمعہ کے دوران ہوا تھا، پولیس اور طبی حکام کے مطابق بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد مسلح دہشت گردوں نے کمپاؤنڈ میں داخل ہوکر پولیس تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ابتدائی کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ بعد میں کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے پر پولیس نے مجموعی طور پر 8 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔
حکام کے مطابق حملے میں 21 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے، شہدا میں 15 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے دھماکا کیا اور اس کے بعد پولیس لائنز کے اندر داخل ہوکر سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی عمارتوں کی جانب پیش قدمی کی، سکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور کلیئرنس آپریشن مکمل کیا۔
واقعے کا ایک اہم پس منظر یہ بھی ہے کہ کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب 2010 میں بھی ایک بم دھماکا ہوا تھا جس میں 20 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔



