ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ تہران اور ثالثوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی شرائط پر مشاورت جاری ہے جبکہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا منتظر ہے۔
محسن رضائی کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، بیرون ملک منجمد ایرانی رقوم کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
ایران کی تین بڑی شرائط کیا ہیں؟
محسن رضائی کے مطابق ایران کی بنیادی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ ان شرائط کا مقصد ایران کے مطابق مذاکرات کی بحالی کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں جنگ بندی اور وسیع تر معاہدے کی جانب پیش رفت ہوسکے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق معاملہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان جنگ تک محدود نہیں بلکہ خطے کے دیگر محاذوں پر جاری لڑائی کا خاتمہ بھی مذاکرات کی بحالی کی شرائط میں شامل ہے۔
قطر اور پاکستان کے ثالثی کردار میں مشاورت جاری
محسن رضائی نے بتایا کہ ایران نے اپنی شرائط ثالثوں تک پہنچا دی ہیں، تہران اب امریکی ردعمل کا انتظار کررہا ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ واشنگٹن مذاکرات کی بحالی کے لیے ایرانی شرائط پر کیا مؤقف اختیار کرتا ہے۔
BREAKING: Mohsen Rezaei, secretary of Iran’s Supreme National Security Council, has spoken to Al Jazeera in an extensive interview, setting out Tehran’s conditions for negotiation and its readiness for a decisive war.
🔴 LIVE updates: https://t.co/74hXy2eNle pic.twitter.com/Z6Gh8NOf9j
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 19, 2026
ایران کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے ثالثوں سے رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ رائٹرز کے مطابق جنگ چھ ماہ سے جاری ہے اور اس کے اثرات مشرق وسطیٰ کے دیگر محاذوں اور عالمی توانائی و شپنگ پر بھی پڑ رہے ہیں۔
یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کا خاتمہ بھی ایرانی مؤقف کا حصہ
محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ بھی ختم ہو۔ ایرانی سکیورٹی چیف نے کہا کہ ایران تمام محاذوں پر لڑائی کے خاتمے کا خواہاں ہے، جس میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری لڑائی بھی شامل ہے۔
ایران پہلے بھی آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی کے معاملے کو مذاکرات کی بحالی سے جوڑتا رہا ہے، الجزیرہ کے مطابق اگست میں محسن رضائی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایران امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے سمیت بعض شرائط پیش کرے گا۔
پس منظر: ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی سابقہ کوششوں میں بھی پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ مئی میں ایران نے امریکی جنگ بندی تجویز کا جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا تھا، جس میں ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی، پابندیاں اٹھانے، جنگ کے تمام محاذوں پر خاتمے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے جیسے مطالبات شامل تھے۔



