ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ تہران پاک ایران دوطرفہ تعلقات پر مرکوز ہوگا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات اور مشترکہ معاملات پر بات چیت ہوگی، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ مذاکرات میں ثالثی سے متعلق کسی مخصوص پیغام کے تبادلے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران بہتری آئی ہے اور دونوں ممالک باہمی روابط اور علاقائی معاملات پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایران امریکا مذاکرات، تہران نے تین شرائط بتا دیں
محسن نقوی کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں، ایرانی سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی کے مطابق تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے جنگ کا تمام محاذوں پر خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرائط رکھی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ مطالبات قطر کے ذریعے امریکا تک پہنچائے گئے ہیں جبکہ پاکستان بھی خطے میں سفارتی رابطوں کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر محاذوں پر جاری لڑائی بھی ختم کی جائے۔ رضائی نے خاص طور پر سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مذاکرات کے لیے ضروری ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔
اسلام آباد کا مفاہمتی کوششوں میں کردار
ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت آگے نہ بڑھ سکی تھی تاہم پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کی کوششیں جاری ہیں، ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق محسن نقوی کے دورے میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ سابقہ قیادتی سطح کے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
The Iranian Foreign Ministry Spokesperson stated that the Pakistani Interior Minister's visit to Tehran will focus on bilateral relations, and there is no plan to exchange any specific messages regarding mediation.
— IRIB (Islamic Republic of Iran Broadcasting) (@iribnews_irib) September 19, 2026
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ مسلسل رابطے میں ہیں اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات بھی متوقع ہے۔



