تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ غیر ملکی مداخلت اور فوجی دباؤ کے ذریعے امن قائم نہیں کیا جاسکتا، عالمی تعلقات میں جنگ کو بنیادی حربے کے طور پر استعمال کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی فوجی جارحیت غیر قانونی اور بلااشتعال تھی، ان کے مطابق جنگ کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش نے عالمی سطح پر امن، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے لیے سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کا المیہ اور اسرائیلی اقدامات عالمی برادری کے لیے امتحان ہیں، انہوں نے کہا کہ جنگ میں ہونے والی اموات صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی جانیں ہیں، عالمی برادری کو بتانا ہوگا کہ یہ سلسلہ کب رکے گا۔
میناب اسکول حملے کا معاملہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میناب کے شاجرے طیبہ اسکول پر حملے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ 168 طالب علموں اور اساتذہ کا قتل عالمی برادری کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ ایرانی حکومت طویل عرصے سے اس حملے کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کرتی رہی ہے۔
میناب اسکول حملے کے حوالے سے حالیہ اہم پیش رفت یہ ہے کہ رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ایران سے متعلق آزاد تحقیقاتی مشن نے 17 ستمبر کو کہا کہ اس کے پاس یہ سمجھنے کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ فروری میں میناب کے اسکول پر امریکی افواج نے حملہ کیا تھا اور یہ حملہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق حملے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 بچے شامل تھے۔ مشن نے کہا کہ اسکول واضح طور پر ایک شہری عمارت تھا اور اسے فوجی مقصد کے لیے استعمال کیے جانے کے شواہد نہیں ملے۔
رائٹرز کے مطابق ابتدائی امریکی فوجی تحقیقات میں بھی امریکی افواج کے اس حملے کی ذمہ داری کا امکان سامنے آیا تھا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں کہا تھا کہ کسی نے جان بوجھ کر لڑکیوں کے اسکول کو نشانہ نہیں بنایا تھا، پینٹاگون نے تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا ہے تاہم اس کی ابتدائی تفصیلات عوامی نہیں کی گئیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عراقچی نے بعد میں بھی میناب اسکول کے واقعے کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی ایک نمایاں مثال قرار دیا اور کہا کہ اس حملے میں 168 طلبہ اور اساتذہ مارے گئے تھے۔
دوسری جانب غزہ کے حوالے سے بھی حالیہ طور پر اقوام متحدہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں سے 630 سے زائد لاشیں ملنے کے بعد ممکنہ جنگی جرائم پر تشویش ظاہر کی ہے۔
یوں عباس عراقچی کا حالیہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگی کارروائیوں، میناب اسکول حملے اور غزہ کی صورتحال کو عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے لیے بڑے امتحان کے طور پر پیش کر رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی حالیہ تحقیقات نے میناب حملے سے متعلق امریکی ذمہ داری کے شواہد پر بھی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔



