وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت آج سے بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے۔
ملک کے پاور سسٹم میں سنگل خریدار نظام سے مسابقتی بجلی مارکیٹ کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پاور ڈویژن نے بجلی کی پہلی ویلنگ نیلامی کے لیے ریکوئسٹ فار پروپوزل جاری کردیا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی، جبکہ مجموعی طور پر آئندہ برسوں میں 800 میگاواٹ بجلی کی طلب کو مسابقتی بنیاد پر مارکیٹ میں لانے کا منصوبہ ہے۔
یہ عمل بجلی کی خریدوفروخت کا دوطرفہ مسابقتی نظام سی ٹی بی سی ایم کے تحت کیاجارہاہے، جس میں کاروباری اداروں اور صنعتی صارفین کو بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس سے براہ راست اور مسابقتی بنیادوں پر بجلی خریدنے کا موقع ملے گا، پاور ڈویژن کے مطابق نیلامی کے عمل کی نگرانی انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) کرے گا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے نیلامی کے عمل کے آغاز پر وزیراعظم اور قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس وقت ایک نظام کے تحت بجلی خرید کر عوام تک پہنچاتی ہے جبکہ بجلی کی خریداری کی شرائط کے حوالے سے ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
اویس لغاری کے مطابق حکومت آج سے بجلی کی خریداری کے عمل سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے اب بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے فریق آپس میں خرید و فروخت کرسکیں گے، ان کا کہنا تھا کہ کسی کو یہ حق نہیں ہوگا کہ حکومت کو بجلی فروخت کرنے پر مجبور کرے اور نہ حکومت بجلی خریدنے کی پابند ہوگی۔
وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی کی خرید و فروخت کا نیا نظام شفافیت پر مبنی ہوگا اور اس کا اطلاق پہلے مرحلے میں صنعتی اور بڑے صارفین پر کیا جائے گا، ان کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اس نظام سے فائدہ اٹھائیں گے۔
اویس لغاری نے کہا کہ آنے والے برسوں میں ملک میں بجلی کی ایک باقاعدہ منڈی تشکیل پائے گی اور مستقبل میں عام صارف کو بھی اپنی ضرورت اور پسند کے مطابق بجلی خریدنے کا موقع مل سکے گا۔
وزیر توانائی کے مطابق سستی بجلی دستیاب ہونے سے پاکستانی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور صنعتیں اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں برآمد کرسکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کیے جارہے ہیں اور پاور سیکٹر میں اصلاحات کے اس عمل پر وزیراعظم اور قوم مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اس کا مقصد پاکستان کے روایتی سنگل بائر ماڈل سے بتدریج مسابقتی اور مارکیٹ پر مبنی بجلی کے نظام کی طرف منتقلی ہے۔ اس ماڈل میں بڑے بجلی صارفین کو کھلے رسائی کے نظام کے ذریعے مختلف بجلی پیدا کرنے والوں سے براہ راست بجلی خریدنے کی سہولت دی جاتی ہے۔
I am proud to announce that the RFP for 400 MW of wheeling has been issued today.
Decades old commitment of different governments has been practically implemented by PM Shahbaz Sharifs Team Power.
Suppliers and Consumers of Power can now transact with each other. No more… pic.twitter.com/9F7MLW1s7T— Awais Leghari (@akleghari) September 20, 2026
ستمبر 2026 میں نیپرا کی جانب سے Use of System Charges کے تعین کے بعد CTBCM کے تحت اوپن ایکسس اور پہلی مسابقتی نیلامی کی راہ ہموار ہوئی۔ نیپرا نے پہلے 400 میگاواٹ کے بلاک کی نیلامی کے لیے ضروری ریگولیٹری بنیاد فراہم کی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق مجموعی طور پر 800 میگاواٹ کی طلب کو مرحلہ وار مسابقتی نیلامی کے ذریعے مختص کیا جائے گا۔ اس کا مقصد بجلی کی خریداری میں مسابقت پیدا کرنا، صنعتی صارفین کو متبادل سپلائرز تک رسائی دینا اور پاور مارکیٹ کو بتدریج زیادہ مارکیٹ بیسڈ بنانا ہے۔



